قاہرہ: مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں اور سعودی عرب پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ملاقات کے دوران صدر السیسی نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے یمن کے بحران کے جامع اور پائیدار سیاسی حل کے لیے جاری کوششوں کی بھی حمایت کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا، مصری ایوان صدر کے مطابق دونوں ممالک خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دے رہے ہیں۔
باب المندب کیوں اہم ہے؟
آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے، اس راستے میں طویل خلل عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور شپنگ لاگت پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، رائٹرز کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے موکا کی بندرگاہ پر قبضہ کرنے کے بعد باب المندب کے قریب واقع اسٹریٹجک پیریم جزیرے تک رسائی حاصل کی، جس سے اہم بحری راستے کے تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
#البلاد | #عاجل#ولي_العهد الأمير #محمد_بن_سلمان:
المباحثات مع #الرئيس_المصري أظهرت الرغبة المشتركة في تعزيز التعاون#صحيفة_البلاد | #محمد_بن_سلمان_في_مصر pic.twitter.com/Who7buwVCs
— صحيفة البلاد (@albiladdaily) September 15, 2026
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
سعودی عرب نے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بحیرہ احمر کے راستے پر اپنی انحصاری بڑھائی ہے، جس کے باعث باب المندب کی سلامتی سعودی تیل برآمدات اور عالمی توانائی منڈی کے لیے مزید اہم ہوگئی ہے۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافہ
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق 15 ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں کی نئی لہر شروع کی جبکہ یمن کے مغربی ساحل پر بھی اپنی پوزیشنیں مضبوط کیں، حوثیوں نے اس سے قبل جنوبی سعودی شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا تھا۔
یمن میں تازہ لڑائی کے نتیجے میں انسانی بحران بھی سنگین ہوگیا ہے، رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بتایا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد اندرونِ یمن بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ سمندری راستے سے جبوتی کی جانب بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔
السیسی اور محمد بن سلمان کی ملاقات میں باب المندب اور بحیرہ احمر کی بحری سلامتی پر زور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یمن کی جنگ اب محض داخلی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی تک پہنچ چکے ہیں۔



