لندن: برطانوی حکومت نے لبنان میں حزب اللہ کے مالیاتی شعبے پر پابندیاں عائد کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کردیا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ حکومت عالمی انسانی حقوق اورانسداد دہشتگردی کے پابندیوں کے نظام میں نئی نامزدگیاں شامل کررہی ہے جبکہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں معاونت کرنیوالے عناصرکیخلاف بھی اقدامات کئے جائیں گے۔
برطانوی وزیرخارجہ کے مطابق لبنان میں حزب اللہ کے مالیاتی شعبے پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، پابندیاں ناانصافی کی نشاندہی اوراس کے خلاف عملی اقدام کے لئے ایک نئے نقطہ نظرکا آغاز ہیں۔
برطانوی حکومت نے انسداد دہشتگردی پابندیوں کے نظام میں ایک نئی نامزدگی جبکہ عالمی انسانی حقوق پابندیوں کے نظام میں 5 نئی نامزدگیاں بھی شامل کی ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں عوام 3 سال سے زائد عرصے سے انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزاررہے ہیں۔
ان کے مطابق برطانیہ، یورپی یونین اور امریکا کے تعاون سے ایران پر بڑی اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال کے حوالے سے برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ برطانوی حکومت اس بات پر متفق ہے کہ وہاں فلسطینیوں کی نسلی کشی ہو رہی ہے۔
برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں اور قبضے کوغیر قانونی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی آباد کاری کے خلاف مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں کی غیر قانونی بستیوں سے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ اسرائیلی بستیوں کے لیے نیا اور جامع پابندیوں کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
بستیوں کی توسیع کے لئے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں، مالی معاونت کرنے والے اداروں اور رئیل اسٹیٹ خدمات دینے والوں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندی سے متعلق قانون سازی 6 سے 9 ماہ کے دوران نافذ کی جائے گی۔
مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بستیوں کی توسیع اور شہری انتظامی اختیارات کے استعمال کو فوری طور پر روکے اورمقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد پر جوابدہی یقینی بنائے۔
برطانیہ نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی غیرقانونی بستیوں کے لیے استعمال ہونے والے بعض اسلحے کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے۔
برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر یہ اقدامات کر رہا ہے۔
فرانس، برطانیہ، کینیڈا سمیت 12 ممالک نے بھی غیرقانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف معاشی پابندیوں کے اعلان کی حمایت کی ہے۔



