وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فائر سیفٹی نظام کی بہتری، اسپتال کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور آتشزدگی کے واقعے پر تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد آئندہ 3 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری ایک بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت پمز اسپتال کی بہتری کے لیے لائحہ عمل سے متعلق اجلاس میں پمز کی تحقیقاتی رپورٹ اور وزارت قومی صحت کی جانب سے کیے گئے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔
پمز کی نرسری میں 26 اگست کو لگی آگ کی تحقیقات کرنے والی حکومتی کمیٹی نے گزشتہ روز 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی تھی جس میں کمیٹی نے واضح طور پر کہا کہ واقعے سے اسپتال کے نظام میں ادارے کی سطح پر ناکامی ثابت ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ غالباً ایئرکنڈیشنر نمبر 2 کی برقی سپلائی کیبل میں خرابی کے باعث لگی۔ نرسری میں دھویں کی نشاندہی کرنے والے نظام، فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود ہونے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ نومولود بچوں کے انخلا کے لیے بھی مؤثر ہنگامی منصوبہ موجود نہیں تھا۔
کمیٹی کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے کسی مخصوص فرد کے خلاف فوجداری جرم ثابت نہیں ہوتا، تاہم ایئرکنڈیشنر کی تنصیب یا دیکھ بھال میں غفلت، ہنگامی اخراج کے راستے میں رکاوٹ، پیشگی تنبیہ کے باوجود کارروائی نہ کرنے اور بیرونی امدادی اداروں کو طلب کرنے میں تاخیر سمیت 4 پہلوؤں پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
آگ لگنے کے وقت پمز کی نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کی جان بچائی جا سکی تھی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کردہ قلیل مدتی اقدامات پر آئندہ 3 ماہ میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ اسپتال کی بہتری اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے بھی ہر ممکن اقدام کیا جائے۔
وزیراعظم نے فائر سیفٹی نظام کی بہتری کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) سے معاونت اور تجاویز لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ میں دی گئی تجاویز پر بھی غور کرکے ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے پمز میں ادویات اور دیگر سہولیات مفت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کو بھی لائحہ عمل کا حصہ بنانے جبکہ اسپتال کی بہتری کے لیے اچھی شہرت رکھنے والی افرادی قوت تعینات کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے پمز کی بہتری کے لیے طویل مدتی اقدامات پر مشتمل جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں پولی کلینک اسپتال کا آڈٹ کرکے بے ضابطگیاں دور کرنے اور اس کی تنظیم نو کا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیراعظم نے سی ڈی اے کو اسلام آباد کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے جبکہ سرکاری و نجی دفاتر اور عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پمز کے پرفارمنس آڈٹ میں جانچ کیے گئے اشاریوں میں قابل قبول ہدف کے مقابلے میں صرف 39.7 فیصد کمپلائنس پائی گئی، جبکہ 90 فیصد کو قابل قبول ہدف قرار دیا گیا تھا۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 37 مجوزہ اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ قلیل، وسط اور طویل مدتی اقدامات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔
