حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 41 پیسے جبکہ پیٹرول 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت 16 ستمبر 2026 سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 409 روپے 42 پیسے سے بڑھا کر 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 380 روپے 24 پیسے سے بڑھا کر 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں ہیں، جن میں عالمی مارکیٹ میں پلاٹس (Platts) کی شرح، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت نئی قیمتوں کا اطلاق 16 ستمبر سے ہوگا ۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 106 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ برینٹ خام تیل 108.8 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے، یوں امریکی تیل کی قیمت میں 4.60 فیصد جبکہ برطانوی تیل کی قیمت میں 2.91 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور سپلائی روٹس کو لاحق خطرات اور عالمی سطح پر خام تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔
رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل تقریباً 3 ڈالر اضافے کے بعد 108.49 ڈالر اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 104.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو تقریباً چار ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے صارفین پر اضافی بوجھ بڑھا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل عالمی خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، شرح تبادلہ اور دیگر قیمت سازی اجزا سے منسلک ہے۔
حکومت نے بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے وزیراعظم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم بھی شروع کی ہے۔ اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہدفی ریلیف دیا جا رہا ہے۔ موٹرسائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے 30 لیٹر تک ریلیف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری بھی دی ہے، جبکہ حکام کے مطابق اسکیم پر تقریباً 25 ارب روپے ماہانہ خرچ آنے کا تخمینہ ہے۔
حکومتی اقدامات کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم آمدن والے اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والے طبقات تک محدود کرنا ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق حکومت عالمی منڈی میں غیر معمولی اضافے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مقامی ریفائنریوں سے مشاورت اور قیمتوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کے ذریعے بھی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔



