حوثی فورسز نے یمن کی فضائی حدود میں سعودی ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے شمال مشرقی صوبے مارب کے علاقے میں واقع جبل حیلان کے قریب ایک سعودی ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے۔
حوثی فوج نے مزید کہا کہ ہمارے ملک اور عوام کے خلاف جارحیت کے پیشِ نظر یمنی مسلح افواج نے اللّٰہ کی مدد اور فضل سے مقامی سطح پر تیار کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے سعودی ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا، جب وہ مارب کی فضائی حدود میں دشمن کارروائیاں کر رہا تھا۔
حوثی ترجمان نے سعودی عرب پر گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یمن میں 450 حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کارروائیوں کا ہدف سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں، جو مقدس مقامات سے بہت دور واقع ہیں۔
بيانٌ صادرٌ عنِ القواتِ المسلحةِ اليمنيةِ
بسمِ اللهِ الرحمنِ الرحيمِ
قالَ تعالى: { یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِن تَنصُرُوا۟ ٱللَّهَ یَنصُرۡكُمۡ وَیُثَبِّتۡ أَقۡدَامَكُمۡ } صدقَ اللهُ العظيمشنَّ الطيرانُ الحربيُّ السعوديُّ خلالَ هذا الأسبوعِ أكثرَ من 450 غارةٍ جويةٍ من خلالِ طائراتِ “F15” و “تايفون” أقلعتْ من قاعدتيْ خميسِ مشيطٍ والطائفِ استهدفتْ محافظاتِ تعزَ ولحجَ والجوفِ وحجةَ ومأربَ وصعدةَ والبيضاءِ مخلفةً شهداءَ وجرحى في صفوفِ المدنيين.
وفي مواجهةِ هذا العدوانِ الغاشمِ على بلدِنا وشعبِنا
فقدْ تمكنتِ القواتُ المسلحةُ اليمنيةُ بعونِ اللهِ وفضلِهِ من إسقاطِ طائرةٍ حربيةٍ سعوديةٍ نوعِ “F15” أثناءَ قيامِها بأعمالٍ عدائيةٍ دعماً لتحشيداتها العسكرية في أجواءِ محافظةِ مأربَ وذلكَ بصاروخِ أرضٍ جوٍّ محليِّ الصنعِ.
وفي سياقٍ متصلٍ نفذتِ القواتُ المسلحةُ اليمنيةُ بعونِ اللهِ تعالى عمليةَ تصدٍ لتشكيلينِ قتاليينِ سعوديينِ نوعِ “F15” و “تايفون” في أجواءِ محافظةِ مأربَ، وذلك بصواريخَ محليةِ الصنعِ، كانتْ تبحثُ عن حطامِ الطائرةِ التي تمَّ إسقاطُها وتمَّ إجبارُها على التراجعِ بفضلِ اللهِ.إنَّ القواتِ المسلحةَ اليمنيةَ ستواصلُ حمايةَ أجواءِ بلدِنا وحمايةَ سيادتِهِ من أيِّ عدوانٍ أوِ انتهاكٍ بكلِّ السبلِ المتاحةِ ولن تكونَ سماءُ اليمنِ مستباحةً بإذنِ اللهِ.
إنَّ الافتراءاتِ والأكاذيبَ التي يروجُ لها نظامُ آلِ سعودٍ المجرمُ باستهدافِ مكةَ المكرمةِ لا يمكنُ أن تنطليَ على أحدٍ فهم من يدنسُها بالفسقِ والمجونِ واستجلابِ العاهراتِ ولا يوجدُ من اليمنِ أيُّ خطرٍ على المقدساتِ فعملياتُنا تستهدفُ منشآتِهِ النفطيةَ وقواعدَهُ العسكريةَ وهي بعيدةٌ كلَّ البعدِ عن المشاعرِ المقدسةِ.
واللهُ حسبُنا ونعمَ الوكيلُ، نعمَ المولى ونعمَ النصيرُ.
عاشَ اليمنُ حراً عزيزاً مستقلاً،
والنصرُ لليمنِ ولكلِّ أحرارِ الأمةِ.
صنعاءُ، 5 ربيع الثاني 1448هـ
الموافقُ 16 سبتمبر 2026م.صادرٌ عنِ القواتِ المسلحةِ اليمنيةِ
— العميد.يحيى سريع (@Yah_Saree) September 16, 2026
علاوہ ازیں حوثی رہنما حازم الاسد نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزامات ایک گھسا پٹا جھوٹ ہیں، اب کسی کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب سعودی حکام کی جانب سے حوثی فورسز کے دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان آیا ہے۔
واضح رہے کہ یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان فضائی کارروائیاں اور سرحد پار حملے شدت اختیار کر گئے ہیں۔
اس سے قبل سعودی فوجی اتحاد نے کہا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔
ترجمان سعودی اتحادی ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش تھی، اس سے پہلے جولائی 2017ء میں بھی مکہ پر بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔
ترکی المالکی نے کہا تھا کہ “حرمین شریفین اور زائرین کا تحفظ ریڈ لائن ہے، اور سعودی اتحاد کی فوج دہشت گرد حوثی ملیشیا اور اس کے جارحانہ و دہشت گردانہ رویے کے خلاف ضروری جوابی کارروئی کرنے میں ہرگز نہیں ہچکچائے گی۔”



