پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی ایسے ہی عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق آٹھوں ممالک نے برطانیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی اور ان بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کا اقدام عالمی برادری کو متحرک کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری میں ملوث بستیوں، اداروں اور افراد کو جوابدہ بنانے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے ہی ٹھوس اقدامات کرے۔
بیان میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا گیا ہے، جس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارتی اشیا کی خرید و فروخت پر قومی یا یورپی سطح پر پابندیوں کے اقدامات کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام ٹھوس اقدامات اختیار کرے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی معاونت یا انہیں برقرار رکھنے والی سرگرمیوں کا خاتمہ یقینی بنا سکیں۔
اسرائیلی آبادکاری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 اور 19 جولائی 2024 کی عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کریں اور اس صورتحال کو برقرار رکھنے میں معاونت یا مدد فراہم نہ کریں۔
🔈 PR No. 2️⃣4️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Türkiye, Egypt, Indonesia, Jordan, Qatar, Saudi Arabia and UAE
🔗⬇️ pic.twitter.com/8JpzJeM8L2
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 9, 2026
آٹھوں ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی خدوخال تبدیل کرنے والی آبادکاری سمیت تمام اقدامات واپس لیے جائیں۔
’ای ون‘ منصوبہ روکنے کا مطالبہ
پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے اسرائیل کے متنازع ’ای ون‘ (E1) آبادکاری منصوبے اور مشرقی یروشلم کے قریب اس سے متعلق سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مشترکہ مؤقف کے مطابق ای ون منصوبہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرسکتا ہے اور مستقبل میں ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ ای ون منصوبہ فوری طور پر روکا جائے اور اس سے متعلق تمام اقدامات منسوخ کیے جائیں۔
دو ریاستی حل ہی پائیدار امن کا راستہ قرار
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کا قابل عمل راستہ ہے۔ آٹھ ممالک نے ایک آزاد، خودمختار، متصل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جو 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ہو اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
بیان میں غزہ کو بھی مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد، انسانی صورتحال سے نمٹنے، تعمیر نو اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان سمیت ان ممالک نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق، خصوصاً حقِ خودارادیت کے تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
یہ مشترکہ بیان 9 ستمبر 2026 کو اسلام آباد سے جاری کیا گیا۔ موجودہ پس منظر میں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے اسرائیلی بستیوں سے درآمدات روکنے کے اقدامات کو اسرائیلی آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔



