7سابق آسٹریلوی کرکٹ کپتانوں نے سابق وزیراعظم اور کرکٹ لیجنڈ عمران خان کی حراست اور مبینہ طور پر بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وانگ سے پاکستانی حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کپتان گریگ چیپل نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کی صورتحال پر گفتگو کے لیے وزیر خارجہ پینی وانگ سے فوری ملاقات کے خواہاں ہیں۔
گریگ چیپل کے علاوہ سابق آسٹریلوی کپتان ایلن بارڈر، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا بھی پینی وانگ کو بھیجے گئے خط پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔
منگل کو بھیجے گئے خط میں سابق آسٹریلوی کپتانوں نے لکھا کہ عمران خان نے پاکستان کو واحد ورلڈ کپ ٹائٹل دلایا اور بعد ازاں وزیراعظم کی حیثیت سے بھی ملک کی قیادت کی۔
خط میں کہا گیا کہ آسٹریلوی عوام عمران خان کو بطور کرکٹر قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کی مہارت اور قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ کھیل پر دیرپا اثرات چھوڑے ہیں، جبکہ انہوں نے کینسر اسپتال قائم کرکے پاکستانی عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔
سابق کپتانوں نے خط میں واضح کیا کہ وہ عمران خان کے خلاف قانونی یا سیاسی مقدمے پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کر رہے کیونکہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
خط میں کہا گیا کہ حراست میں موجود کسی بھی شخص کے ساتھ سلوک بنیادی انسانی معاملہ ہے، چاہے اس شخص کی سیاسی وابستگی یا نظریات کچھ بھی ہوں۔
سابق آسٹریلوی کپتانوں نے آسٹریلوی حکومت سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کے معاملے کو پاکستانی حکام کے سامنے براہ راست اٹھائے۔
دوسری جانب آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وانگ کے ترجمان نے کہا کہ آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں سابق وزیراعظم عمران خان کا معاملہ باقاعدگی سے اٹھاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق آسٹریلیا پاکستانی حکام پر زور دیتا رہے گا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
پینی وانگ نے رواں سال جولائی میں پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد پینی وانگ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان کی جانب سے بات چیت اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔
Met with Pakistan’s Foreign Minister Mohammad Ishaq Dar to discuss our bilateral relationship and developments in the Middle East.
I thanked him for Pakistan’s ongoing diplomatic efforts to promote dialogue and regional stability. pic.twitter.com/Iy9vmGGyIj
— Senator Penny Wong (@SenatorWong) July 23, 2026
اس سے قبل رواں سال سابق عالمی کرکٹ کپتانوں نے بھی پاکستانی حکومت سے عمران خان کو جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
گریگ چیپل نے کہا کہ طویل عرصے تک قید تنہائی میں رہنے کے بعد عمران خان کی صحت نمایاں طور پر خراب ہوئی ہے اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی بھی زیادہ تر متاثر ہوچکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہی انتقال نہ کر جائیں۔
گریگ چیپل نے امید ظاہر کی کہ آسٹریلیا کی حکومت اس معاملے کو حکومت سے حکومت کی سطح پر اٹھا کر عمران خان کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے اسے قانونی یا سیاسی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا معاملہ قرار دیا۔
آسٹریلوی ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنز نے بھی گزشتہ ماہ عمران خان کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے مطالبات کی حمایت کی تھی۔ سوشل میڈیا پر بیان میں پیٹ کمنز نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے عمران خان کے ساتھ اس وقار کے مطابق سلوک کیا جائے گا جس کا ہر انسان حقدار ہے۔
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves https://t.co/L1L512wXao
— Pat Cummins (@patcummins30) August 28, 2026
آسٹریلوی گرینز پارٹی کے خارجہ امور کے ترجمان ڈیوڈ شور برج نے بھی عمران خان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری کے بہت سے افراد عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بجا طور پر تشویش کا شکار ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ آسٹریلیا اس معاملے پر بہت کم ردعمل کیوں دے رہا ہے۔
ڈیوڈ شور برج کے مطابق وہ کئی ماہ سے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان حکومت سے عمران خان کے معاملے پر بات کی جائے اور آسٹریلوی ہائی کمیشن کو عمران خان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اقدام کی ہدایت دی جائے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے عمران خان کو ’سزا کے طور پر قید تنہائی، ظلم یا محرومی‘ کا سامنا ہونے کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق عمران خان کی قید بااختیار عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں ہے اور انہیں پاکستانی قوانین کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔



