روس کے صوبے سائبیریا میں ایک لیبارٹری میں کام کرنے والی خاتون کی طاعون سے موت کے بعد ملک میں مہلک وبا پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماسکو ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 27 یا 28 سالہ خاتون طاعون پر تحقیق کرنے والی ایک لیبارٹری میں کام کرتیں تھیں جہاں ان کے ہاتھ سے ایک ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ٹیوب میں موجود طاعون کے جرثومے کی وجہ سے بری طرح خاتون بیمار ہو گئیں اور اسپتال داخلے کے چھٹے روز وفات پا گئیں۔
یہ واقعہ سائبیریا کے علاقے ارکتسک میں پیش آیا جہاں اب متاثرہ خاتون کیساتھ گھلنے ملنے والے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ ان میں تقریباً 100 افراد کو اسپتال میں داخل کر کے ان کی طبی نگرانی کی جا رہی ہے۔
Daria Shipilova did research on sensitivity of antibiotics on Yersinia Pestis at Irkutsk Institute in Russia.
THIS MEANS THEY HAVE ANTIBIOTIC RESISTANT YERSINIA PESTIS IN THE LAB.
If this mutation of Yersinia Pestis was leaked, WE ALL HAVE A BIG PROBLEM. https://t.co/yA5B1mb75G
— Dr. Paul Cottrell (@dr_cottrell) October 5, 2026
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق طاعون نے ماضی میں نسل انسانی کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ چودہویں صدی میں اسے “بلیک ڈیتھ” کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس کے نتیجے میں یورپ میں 5 کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ماسکو ٹائمز کی ایک اور رپورٹ کے مطابق روسی حکام کا کہنا ہے کہ سائبیریا میں قرنطینہ کیے گئے افراد ‘بالکل ٹھیک’ ہیں اور ان کے روزانہ بلڈ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس کے بعد ان میں سے 2 میں کورونا وائرس جبکہ 2 مزید میں رائنو وائرس (نزلہ اور زکام) کی تشخیص ہوئی مگر کوئی بھی فرد طاعون سے متاثر نہیں پایا گیا۔
تاہم مقامی یا غیر ملکی میڈیا روسی ہیلتھ حکام کے اس دعوے کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا۔ حکام کی جانب سے خاتون کی موت کا سبب بننے والے طاعون کی قسم کی بھی وضاحت نہیں کی گئی۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون کی موت نیومونک طاعون کی وجہ سے ہوئی جو طاعون کی ایک جان لیوا قسم ہے۔
طاعون کی یہ قسم پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور یرسینیا پیسٹِس بیکٹیریا کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اسے طاعون کی مہلک ترین قسم قرار دیتا ہے۔
یہ بیماری اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب طاعون کے جراثیم جسم کے کسی دوسرے حصے سے پھیپھڑوں تک پہنچ جائیں، یا کوئی شخص متاثرہ فرد کی سانس کے ذریعے خارج ہونے والے جراثیم آلود ذرات کو سانس کے ساتھ اندر کھینچ لے۔
بوبونک طاعون کے برعکس، جو زیادہ تر لمف نوڈز (غدود) کو متاثر کرتا ہے، نیومونک طاعون براہِ راست نظامِ تنفس کو متاثر کرتا ہے اور علاج نہ ہونے کی صورت میں بہت تیزی سے سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔



