کرکٹ کے میدان میں منفرد واقعے نے کھلاڑیوں، کمنٹیٹرز اور ناظرین کو حیران کر دیا۔
کرکٹ کی تاریخ کا یہ منفرد واقعہ کینیڈا سپر 60 کے سیمی فائنل میں ٹورنٹو سکسز اور مسی ساگا ماسٹرز کے درمیان پیش آیا۔
امریکا سے تعلق رکھنے والے مسی ساگا ماسٹرز کے فاسٹ باولر علی خان نے ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر کیرون پولارڈ کو خطرناک باؤنسر کرایا، گیند پولارڈ کے سر کے اوپر سے گزری اور وکٹ کیپر کو بھی پار کرتی ہوئی براہ راست باؤنڈری کے باہر جا گری۔
بظاہر یہ منظر ایک چھکے جیسا دکھائی دے رہا تھا، تاہم امپائر نے گیند کو وائیڈ قرار دیتے ہوئے چوکے کا اشارہ کیا۔ یوں ٹورنٹو سکسز کو مجموعی طور پر5 رنز ملے، جن میں ایک رن وائیڈ اور باؤنڈری کے 4 رنز شامل تھے۔
یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ پولارڈ نے گیند کو بالکل نہیں چھوا تھا۔ کرکٹ کے قوانین کے مطابق کسی گیند کو چھکا اسی صورت میں قرار دیا جاتا ہے جب گیند باؤنڈری پار کرنے سے قبل بلے یا بیٹر کے دستانے سے ٹکرائے اور پھر بغیر زمین پر لگے باؤنڈری کے باہر چلی جائے۔
امپائر نے چوکا دیا، چھکا کیوں نہیں؟
گیند پولارڈ کے بلے یا دستانے سے ٹکرائے بغیر براہ راست باؤنڈری سے باہر گئی، اس لیے اسے چھکا نہیں دیا جا سکتا تھا۔
سیمی فائنل میں میں ٹورنٹو سکسز نے سیمی فائنل میں مسی ساگا ماسٹرز کو 9 رنز سے شکست دے کر کینیڈا سپر 60 کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
اس واقعے نے ایک طرف ٹورنامنٹ میں ایک اور یادگار لمحے کا اضافہ کیا اور کرکٹ کے قوانین کی اہمیت اجاگر کی جبکہ دوسری جانب یہ واقعہ کینیڈا سپر 60 میں چھوٹی باؤنڈری کی طرف بھی توجہ دلائے جانے کا سبب بنا۔
10 اوورز کے مختصر فارمیٹ میں میدان کی باؤنڈری نسبتاً قریب ہونے کے باعث ایک ایسی باؤنسر بھی جسے عام طور پر بلے باز کے لیے مشکل گیند سمجھا جاتا ہے، بیٹ سے ٹکرائے بغیر باؤنڈری تک پہنچ گئی۔



