ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز برائن لارا نے سابق پاکستانی کپتان اورسابق وزیراعظم عمران خان کو مناسب طبی سہولیات اور باوقار حالات فراہم کرنے کی عالمی اپیل کی حمایت کردی۔
برائن لارا نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ عمران خان کو مناسب، آزادانہ طبی نگہداشت اور وہ وقار ملنا چاہیے جس کا ہر انسان حقدار ہے۔
View this post on Instagram
ویسٹ انڈیز کے سابق عظیم بلے باز نے کہا کہ ان کی اور عمران خان کی کرکٹ کے میدان میں صرف چند مرتبہ ملاقات یا مقابلہ ہوا، تاہم 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والے پاکستانی کپتان کے لیے ان کے دل میں احترام فوری اور دیرپا تھا۔
برائن لارا نے اپنے بیان میں لکھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جو شخص اپنے کھیل کے عروج پر اپنے ملک کے لیے امید، فخر اور تحریک کی علامت تھا وہ اب ایسی صورتحال سے کیسے دوچار ہوسکتا ہے جہاں اسے وہ ہمدردی اور وقار نہیں مل رہا جس کا وہ مستحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سابق بین الاقوامی کپتانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو عمران خان کو مناسب اور آزادانہ طبی سہولت فراہم کرنے اور انہیں ہر انسان کے بنیادی وقار کے مطابق سلوک دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
برائن لارا نے واضح کیا کہ یہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ کرکٹ کے ایک لیجنڈ کے ساتھ بنیادی انسانیت کا معاملہ ہے۔
22 سابق کرکٹرز کی عمران خان کیلئے اپیل
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 22 بین الاقوامی کرکٹرز، جن میں 21 سابق کپتان بھی شامل تھے، نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کو طبی علاج فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
خط میں سابق وزیراعظم کو حالیہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق طبی علاج فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بریئرلی اور گریگ چیپل سمیت دیگر سابق بین الاقوامی کرکٹرز شامل تھے۔
برائن لارا کی جانب سے عمران خان کے لیے یہ بیان بھی اسی عالمی اپیل کا حصہ ہے جس میں سابق کرکٹرز نے سابق پاکستانی کپتان کے لیے مناسب طبی علاج اور باوقار حالات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ عمران خان ان مقدمات کو 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے خلاف سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات قرار دیتے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی مختلف اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
ان کے دائیں آنکھ کے عارضے کے باعث انہیں متعدد مرتبہ اسپتال لے جایا گیا۔ یہ عارضہ جنوری کے آخر میں سامنے آیا تھا اور اسے دائیں آنکھ کی مرکزی ریٹینل وین میں رکاوٹ، یعنیRight Central Retinal Vein Occlusion قرار دیا گیا۔
عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بھی ان کے طبی علاج کے معاملے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
سپریم کورٹ کا طبی معائنے کا حکم
18 اگست کو سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
عدالت نے ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے جہاں ماہرین پر مشتمل کثیرالجہتی میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ اور علاج کرے۔تاہم بعد میں سامنے آیا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا۔
بعد ازاں یہ بھی رپورٹ ہوا کہ پمز میں عمران خان کا تجویز کردہ Computed Tomography Angiography (CTA) ٹیسٹ نہیں ہوسکا کیونکہ اسپتال میں اس کے لیے مطلوبہ سہولیات دستیاب نہیں تھیں۔




