دنیائے کرکٹ کے 21 سابق کپتانوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔
دنیا بھر کے 21 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک بار پھر خط لکھ کر سابق وزیراعظم اور سابق قومی کپتان عمران خان کے طبی علاج اور صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق سابق کرکٹرز نے اپنے خط میں کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ان کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جہاں ایک میڈیکل بورڈ کو ان کا مکمل معائنہ کرنا تھا اور اس بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالجین اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان کو بھی شامل کیا جانا تھا۔
خط کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان سے اہل خانہ کی ہفتہ وار ملاقاتیں بھی بحال کی تھیں، جسے سابق کرکٹ کپتانوں نے خوش آئند قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا اسپتال میں قیام صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا اور عدالت کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے سرکاری طور پر مقرر کردہ طبی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا، جس کے بعد انہیں ’’طبی طور پر فٹ‘‘ قرار دے کر اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔
سابق کپتانوں نے خط میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو اپنا کام مکمل کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔
سابق کپتانوں کے تین مطالبات
سابق کرکٹرز نے وزیراعظم شہباز شریف سے تین اہم مطالبات کیے ہیں۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق میڈیکل بورڈ کو جس میں عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز بھی شامل ہوں، ان کی صحت کا مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے، خصوصاً ان کی دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی متاثر ہونے کے معاملے کا تفصیلی معائنہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے بحال کی گئی اہل خانہ کی ہفتہ وار ملاقاتوں کو بلا تعطل اور کسی انتظامی تاخیر کے بغیر یقینی بنایا جائے۔
طبی معائنے کے نتیجے میں جو بھی علاج تجویز کیا جائے وہ بلا تاخیر عمران خان کو فراہم کیا جائے۔
خط میں سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے داخلی قانونی معاملات میں فیصلہ سنانے کی کوشش نہیں کررہے بلکہ ایک سابق کرکٹر اور ساتھی کی حیثیت سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ سیاست دانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایسے سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں جن کے درمیان کرکٹ کے میدان میں ایک مشترکہ رشتہ قائم ہوا۔
چھ ماہ میں سابق کپتانوں کا دوسرا خط
عمران خان کی صحت کے حوالے سے سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو یہ دوسرا خط ہے۔ اس سے قبل رواں سال فروری میں 14 سابق کپتانوں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر عمران خان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس وقت بھی عمران خان کے خاندان کی جانب سے ان کی آنکھ کی تکلیف اور مبینہ طور پر ایک آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہونے کے دعوے سامنے آئے تھے۔ سابق کپتانوں نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
حالیہ خط میں سابق کپتانوں نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے طبی معائنے، اہل خانہ سے ملاقاتوں اور تجویز کردہ علاج کی بروقت فراہمی پر زور دیا ہے۔
خط پر دستخط کرنے والے سابق کپتان
خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، الیکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بریرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، الیسٹر کک، مائیکل گیٹنگ، سنیل گواسکر، لی جرمون، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گاور، کم ہیوز، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا رانا ٹنگا، اینڈریو اسٹراس، دلیپ وینگسارکر، اسٹیو وا اور جان رائٹ شامل ہیں۔
عمران خان کی قانونی صورتحال
عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں مختلف مقدمات میں متعدد سزائیں سنائی گئیں، جن میں بدعنوانی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ ان کے خلاف توشہ خانہ اور دیگر مقدمات میں طویل قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ 2024 کے عام انتخابات سے قبل انہیں اپنی موجودہ اہلیہ سے شادی سے متعلق مقدمے میں بھی سزا سنائی گئی تھی۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس شامل ہیں، نے بھی عمران خان کے مقدمات کی شفافیت اور جیل میں ان کے حالات کے حوالے سے مختلف مواقع پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت ان سے متعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جیل میں مبینہ غیر انسانی سلوک کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
سابق کپتانوں کے تازہ خط کے بعد عمران خان کی صحت، طبی معائنے اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کا معاملہ ایک بار پھر بین الاقوامی کرکٹ برادری کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے معاملے پر سپریم کورٹ نے 18 اگست 2026 کو حکومت کو ہدایت کی تھی کہ انہیں 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال، اسلام آباد منتقل کیا جائے، جہاں ایک کثیرالجہتی میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ اور علاج کرے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان کو بھی ان کی طبی نگہداشت سے متعلق عمل میں شامل رکھا جائے۔
International cricket captains showing more spine and decency than most. https://t.co/Vmkg4sAIgY pic.twitter.com/Ffm1CR7gNW
— Sayed Z Bukhari (@sayedzbukhari) August 23, 2026
عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے بعد 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم انہیں شفا انٹرنیشنل کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا۔ وہاں ان کا چند گھنٹوں تک طبی معائنہ کیا گیا اور بعد ازاں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
اس پر پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے جبکہ حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کا عدالتی حکم جیل کے قواعد اور قیدیوں کی منتقلی کے موجودہ نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔
حکومتی درخواست میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ اگر ایک قیدی کو نجی اسپتال کے انتخاب کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں دیگر قیدی بھی اسی بنیاد پر ایسے مطالبات کرسکتے ہیں، جس سے جیل انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی درخواست اور حکومت کی نظرثانی درخواست پر ابھی سپریم کورٹ نے سماعت کرنی ہے۔



