وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا۔
اس سے قبل سہیل آفریدی بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور سے لکی مروت پہنچے تو کارکنوں نے ہیلی پیڈ پر ان کا استقبال کیا۔
ہفتے کی رات کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لگ بھگ 10 گھنٹے تک جاری رہنے والا مذاکرات کا دوسرا دور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ اس کے اگلے روز یعنی اتوار کو تحریک انصاف نے لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کیا۔
کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بند کمروں کی پالیسی جو خیبر پختونخوا کے مفاد میں نہیں ہو گی وہ نہیں مانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق میں جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی اُس وقت امن تھا، موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسی سے دہشتگردی ختم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھی ہے۔
سو دن میں امن قائم کرنے کا دعویٰ
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ جو پالیسی وہ دے رہے ہیں اُس سے 100 دن میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ آج رات کرک میں قیام کریں گے اور کل یہاں سے روانہ ہوں گے اور ہر دن پلان دیں گے۔
مذاکرات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی صدر مملکت آصف زرداری کے پاس گئے اور مشترکہ اعلامیہ پر مشاورت کی، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے بھی آن لائن رابطہ کیا گیا، جس کے بعد وزیر داخلہ دوبارہ پارلیمنٹ ہاؤس گئے۔
عمران خان سے ملاقات پر آمادگی
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور رہنما اسد قیصر کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی جبکہ پی ٹی آئی نے حکومت کے تمام مطالبات مان لیے تھے تاہم 10 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں بعد ازاں ڈیڈلاک پیدا ہو گیا۔
مذاکرات ختم ہونے کے بعد وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینے اور کردار ادا کرنے پر یقین دہانی سے انکاری ہے۔ اس وجہ سے معاہدہ نہیں ہو سکا۔ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اگر آپ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے تو رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے معاملات پر مذاکرات ناکام ہوئے، خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کرنا چاہتی، انسداد دہشتگردی کے معاملے پر تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم سے مایوسی ہوئی، دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کے استحکام کی جنگ ہے، اس میں تعاون کریں۔
لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں، بیرسٹر گوہر
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ کسی چیز کو آخری نہیں کہنا چاہیے، سیاست میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی، لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں۔
علاوہ ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت 72 گھنٹوں میں تحریری معاہدہ اور عملدرآمد کا منصوبہ دینے پر رضامند ہوئی تھی، پولیس ایکٹ 2026 پر سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں نظرثانی پر اتفاق کیا گیا تھا، کے پی حکومت نے صوبے میں دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
The KP Government had agreed to sign a written agreement and submit an implementation plan within 72 hours, covering
• Reconsideration of the Police Act 2026 in light of the security situation and the need to protect security matters from political interference
• Preventing terrorists from operating freely or finding safe havens in the province
• Unequivocal condemnation of TTP/TTA and all other terrorist groups
• Support for the national policy on Afghan refugees, including repatriation and dismantling Afghan camps in KP
• No contact with the Interim Afghan Government
• Substantial funding for counterterrorism operations and the police
• Full provincial ownership of counterterrorism measures and stronger cooperation with the Armed Forces
• Decisions on counterterrorism in the former FATA and merged districts
• Implementation of the National Action PlanLast night, during the final phase of negotiations, the KP Government backed out of these commitments. Security must not be politicised while the province is at War
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 4, 2026
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت نے ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی مذمت پر اتفاق کیا تھا، اس کے علاوہ افغان کیمپوں کے خاتمے اور پناہ گزینوں کی واپسی کی حمایت کی تھی، خیبر پختونخوا حکومت نے عبوری افغان حکومت سے رابطہ نہ رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا حکومت نے ان تمام نکات سے روگردانی کی۔ “سیکورٹی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ خیبر پختونخوا حالت جنگ میں ہے۔”



