وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی اور جیل ملاقاتوں سے متعلق مقدمات سمیت مختلف کیسز سپریم کورٹ سے آئینی عدالت منتقل کرنے کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
تحریری حکمنامے کے مطابق آفس رجسٹرار کے ذریعے سپریم کورٹ سے متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ منگوایا جائے اور مقدمات کا ریکارڈ آئینی عدالت کو منتقل ہونے کے بعد انہیں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
عدالت نے سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کی جانب سے دائر درخواستیں بھی آئینی عدالت منتقل کرنے کی ہدایت کردی جبکہ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق دائر درخواستیں بھی سپریم کورٹ سے منگوا لی گئی ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے حکمنامے میں قیدیوں کے بنیادی آئینی حقوق سے متعلق چار اہم سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل اور عدالت کے سامنے موجود درخواستیں بعض بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہیں جو آئینی تشریح سے جڑے ہوئے ہیں۔
پہلا سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ کون سی عدالتیں بنیادی آئینی حقوق پر عملدرآمد کروانے کا اختیار رکھتی ہیں؟دوسرا سوال یہ اٹھایا کہ آئین اور جیل رولز کے تحت قیدی کو کون سے حقوق ہر حال میں فراہم کیے جانے چاہئیں؟
تیسرے سوال میں عدالت نے دریافت کیا کہ قیدیوں کے حقوق سے متعلق ریاستی فرائض کا دائرہ کار کیا ہے؟چوتھے سوال میں کہا گیا ہے کہ اگر ریاست کسی قیدی کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں ناکام ہو تو اس کے کیا آئینی اور قانونی اثرات ہوں گے؟
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق یہ تمام سوالات آئینی تشریح سے متعلق ہیں، اس لیے متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے ان معاملات کا آئینی تناظر میں جائزہ لیا جائے گا۔
قبل ازیں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 3 قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیس کا ریکارڈ بھی منگوا لے، آرٹیکل 175 ای کی ذیلی شق 5 کے تحت آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہیے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا، سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل ایسے ہی ہے، آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا کیس تو فوجداری نوعیت کا ہے، ہمارے پاس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف آیا ہے، سپریم کورٹ کا حکم تو ابھی عبوری ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال تو اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کا کیس اب کون سن سکتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفاء اسپتال منتقلی کے ریکارڈ سمیت دیگر ہائیکورٹس میں بھی اس نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہائیکورٹ میں اس نوعیت کا کوئی بھی کیس زیرالتوا ہو تو اس کا ریکارڈ بھی بھجوایا جائے۔
عدالت نے رجسٹرار کو تمام مقدمات منگوانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کے اٹھائے گئے نکات قابل غور ہیں۔
بعد ازاں آئینی عدالت نے 3 قیدیوں کی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
قیدیوں کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا معاملہ سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکم کے بعد سامنے آیا۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت دی جا سکتی ہے تو دیگر قیدیوں کو بھی مساوی حق ملنا چاہیے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان کو عدالتی حکم کے باوجود شفا انٹرنیشنل اسپتال نہیں لے جایا گیا تھا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 31 اگست کو قیدیوں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ کسی قیدی کو اپنی مرضی کے نجی اسپتال میں علاج کرانے کا قانونی یا بنیادی حق حاصل نہیں تاہم اگر سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہ ہو تو میڈیکل بورڈ کی سفارش پر نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، اس فیصلے کے خلاف تینوں قیدیوں نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔



