پاکستان نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعوے مسترد کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل کا وعدہ پورا کرے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔
🔊PR No.2️⃣3️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/YV7kDWpZx6
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 7, 2026
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے واضح کیا کہ بھارت کے نام نہاد نقشوں اور خودمختاری کے دعووں کا کشمیر کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
پاکستان نے عالمی برادری سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور غیر قانونی قبضہ کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر حل طلب تنازعات میں شامل ہے،حتمی فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے۔
کشمیری عوام کی خواہشات کا اظہار آزادانہ و غیر جانب دارانہ استصواب رائے سے ہوگا،اقوام متحدہ کے نقشوں میں جموں و کشمیر کو متنازع خطہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بھارت میں صدیوں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی شدید مذمت
پاکستان نے بھارت کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارتی مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم کارروائیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد کو 5 ستمبر کو شہید کیا گیا، جس پر پاکستان نے گہری تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ تاریخی مسجد کی مسماری اسلاموفوبیا اور ہندوتوا پر مبنی مہم کا ایک اور مظہر ہے۔ تاریخی اسلامی ورثے کو مٹانے کے لیے بھارت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات قابل مذمت ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی مبینہ بے حرمتی اور مسماری کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے جبکہ بھارتی حکام کو اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور ان کے ثقافتی و مذہبی ورثے کے خلاف اقدامات پر جوابدہ بنایا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بابری مسجد کی 1992 میں مسماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مذہبی عدم برداشت اور نفرت کی ایک مستقل علامت ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم کارروائیوں کا نوٹس لے اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق اور آزادی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
🔊PR No.2️⃣3️⃣7️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/c7WJAPwPkg
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 6, 2026
ترجمان کے مطابق مذہبی مقامات اور تاریخی اسلامی ورثے کا تحفظ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے، اس لیے بھارتی حکام کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو مذہبی کشیدگی اور عدم برداشت کو مزید فروغ دیں۔



