اسلام آباد: حکومت پاکستان نے نیپال کے حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ عوام کی مدد کے لیے امدادی سامان کی کھیپ روانہ کردی۔
وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 100 ٹن امدادی سامان چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو روانہ کردیا۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نیپال کے لیے امدادی سامان کی روانگی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں پاکستان میں تعینات نیپال کے سفیر سمیت این ڈی ایم اے، وزارت خارجہ اور مختلف فلاحی اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق امدادی کھیپ میں خیمے، کمبل، میٹس، حفظانِ صحت کی کٹس اور ضروری ادویات شامل ہیں، جنہیں نیپال کے سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے روانہ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں نیپال اور اس کے سیلاب متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے نیپالی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفت سے متاثرہ نیپالی عوام کو اس وقت فوری امداد اور تعاون کی ضرورت ہے اور پاکستان اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد جاری رکھے گا۔
🔊PR No.2️⃣3️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Dispatches 100 Tons of Humanitarian Assistance to Nepal
🔗⬇️ pic.twitter.com/BZy8qfFxBI
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 6, 2026
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے امدادی سامان کی بروقت روانگی کے لیے متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں کو سراہا، این ڈی ایم اے کے مطابق امدادی سامان کی فراہمی کا مقصد متاثرہ علاقوں میں بنیادی ضروریات کی کمی کو پورا کرنے میں نیپالی حکام کی معاونت کرنا ہے۔
نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہزاروں افراد متاثر
نیپال میں 26 اگست 2026 کو آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے نظام میں آنے والے سیلاب سے راسوا، نوواکوت، دھادنگ اور دیگر علاقوں میں جانی و مالی نقصان ہوا، جبکہ متعدد سڑکیں، پل، گھر اور بنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہوا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے مطابق 3 ستمبر تک نیپالی حکومت کے اعداد و شمار میں 1,204 اموات اور تقریباً 4,216 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع تھی۔
تلگانہ ٹوڈے کی تازہ رپورٹس کے مطابق 6 ستمبر تک ہلاکتوں کی تعداد 1,344 تک پہنچ چکی ہے جبکہ تقریباً 5 ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں، امدادی ادارے اور سکیورٹی فورسز دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں امدادی کارروائیاں اور لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق رپورٹس کے مطابق تباہ کن سیلاب کا ایک اہم محرک 26 اگست کو نیپال اور تبت کی سرحدی پٹی میں گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والا شدید سیلاب اور مٹی کا تودہ تھا، جس نے تریشولی دریا کی وادی میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔
پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی روانگی اسی انسانی بحران کے دوران نیپالی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور فوری امداد کی کوشش ہے۔



