اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارتی مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم کارروائیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد کو 5 ستمبر کو شہید کیا گیا، جس پر پاکستان نے گہری تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ تاریخی مسجد کی مسماری اسلاموفوبیا اور ہندوتوا پر مبنی مہم کا ایک اور مظہر ہے۔ تاریخی اسلامی ورثے کو مٹانے کے لیے بھارت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات قابل مذمت ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی مبینہ بے حرمتی اور مسماری کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے جبکہ بھارتی حکام کو اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور ان کے ثقافتی و مذہبی ورثے کے خلاف اقدامات پر جوابدہ بنایا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بابری مسجد کی 1992 میں مسماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مذہبی عدم برداشت اور نفرت کی ایک مستقل علامت ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم کارروائیوں کا نوٹس لے اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق اور آزادی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
🔊PR No.2️⃣3️⃣7️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/c7WJAPwPkg
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 6, 2026
ترجمان کے مطابق مذہبی مقامات اور تاریخی اسلامی ورثے کا تحفظ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے، اس لیے بھارتی حکام کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو مذہبی کشیدگی اور عدم برداشت کو مزید فروغ دیں۔
بھارت میں بابری مسجد کی مسماری نمایاں واقعہ ہے
بھارت میں مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہ کی مسماری کا سب سے نمایاں واقعہ بابری مسجد کا ہے، اترپردیش کے شہر ایودھیا میں 16ویں صدی کی یہ مسجد 6 دسمبر 1992 کو ہندو قوم پرست کارکنوں کے ایک بڑے ہجوم نے مسمار کردی تھی، مسجد کی جگہ پر ہندو اور مسلم فریقوں کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازع جاری تھا جبکہ مسماری کے بعد بھارت کے مختلف حصوں میں شدید فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔
بعد ازاں بھارتی سپریم کورٹ نے 2019 میں متنازع مقام ہندو فریق کو دینے اور مسلمانوں کے لیے ایودھیا میں متبادل مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کا فیصلہ دیا، 2024 میں اسی متنازع مقام پر رام مندر کا افتتاح کیا گیا۔
حالیہ برسوں میں بھارت میں بعض ریاستوں، خصوصاً اترپردیش اور ہریانہ، میں مسلمانوں سے منسلک عمارتوں اور املاک کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں پر بھی شدید سیاسی اور قانونی تنازع سامنے آتا رہا ہے۔
– Yaqoob khan and Walid khan construct a mosque in 1911.
– Later they donated a part of their land for construction of collectorate and Govt offices.
– Today, the same collectorate has demolished their 116 years old mosque by saying it's illegal despite stay orders from court. pic.twitter.com/g92xLv3h9Z
— شبلی (@_shiblee) September 5, 2026
انڈین ایکسپریس کے مطابق تازہ ترین واقعے میں اترپردیش کے شہر سہارنپور میں ضلعی کلکٹریٹ کمپلیکس میں واقع مسجد کو 5 ستمبر 2026 کو مسمار کیا گیا۔
بھارتی حکام کے مطابق مسجد سرکاری زمین پر غیر مجاز طور پر تعمیر کی گئی تھی اور مقامی عدالت کی جانب سے مسجد انتظامیہ کی اپیل مسترد ہونے کے بعد کارروائی کی گئی تاہم مسجد انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مسماری میں قانونی طریقہ کار مکمل طور پر اختیار نہیں کیا گیا۔



