دفتر خارجہ نے ان دعووں کو “گمراہ کن اور حقیقت کے منافی” قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا کے “ایلچی” کے طور پر ایران کا دورہ کیا۔
واضح رہے کہ آرمی چیف نے 24 اگست کو تہران کے اپنے ایک روزہ دورے کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقات کی، جو امریکا-ایران جنگ میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ ان کے ہمراہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تھے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ہونے والی بات چیت میں “علاقائی کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل کو توڑنے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکراتی حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “میں اس بات کو بھی اجاگر کروں گا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کہ فیلڈ مارشل نے صدر ٹرمپ یا امریکا کے ایلچی کے طور پر ایران کا دورہ کیا، گمراہ کن اور حقیقت کے منافی ہیں، کیونکہ ان کا یہ دورہ محض ایک ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کے تناظر اور پس منظر میں کیا گیا تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل وزیر خارجہ نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جہاں ہونے والی بات چیت میں خطے میں کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ سے 17، 19 اور 25 اگست کو 3 مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ جس میں علاقائی صورتحال اور امن کے لیے مذاکرات و سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے کویتی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا ہے۔
مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی شمولیت؟ “معاہدہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے”
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ (ایم جے ڈی اے) میں بنگلہ دیش کی شمولیت کی دلچسپی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ “ایک زیر تشکیل سکیورٹی فریم ورک کے طور پر ایم جے ڈی اے ان ممالک کے لیے اوپن ہے جو اجتماعى ذمہ داریوں اور مشترکہ سکیورٹی مفادات کے عزم پر متفق ہیں۔”
7 اگست کو طے پانے والے اس مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد اجتماعى دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک پر بھی حملے کو سب پر حملہ تصور کریں۔
طاہر اندرابی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ ایک “دفاعی فریم ورک ہے جس کا مقصد امن کا تحفظ اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں شمولیت کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے کی جانے والی باقاعدہ درخواست پر ریاض اور انقرہ کی مشاورت سے غور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ “تاہم مکہ معاہدہ فی الحال ابتدائی مراحل میں ہے”۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے تاہم اس کے لیے افغان عبوری حکومت کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے کرانہ ہلز پر حملے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور پاکستان اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکام کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ اسٹائل بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان نے ایس سی او میں ایک سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھالی ہے، پاکستان2027میں ایس سی او کی میزبانی کرے گا، وزیراعظم بشکیک میں ایس سی او کانفرنس میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایس سی او کانفرنس کے موقع پر دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف کی کرغزستان کی قیادت سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔



