وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) اور لاہور کے جنرل اسپتال کے بعد رحیم یار خان کے شیخ زید اسپتال میں بھی آگ لگ گئی ۔۔
ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن تھیٹر میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جس کے باعث اسپتال میں دھواں پھیل گیا،آپریشن تھیٹر میں موجود مریضوں کو فوری طور پر باہر نکال لیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کےمطابق آپریشن تھیٹر میں لگنے والی آگ پر اسپتال میں موجود فائر ٹینڈر کے ذریعے قابو پا لیا گیا،ترجمان ڈاکٹر الیاس کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے نوٹس لے لیا
ڈپٹی کمشنر نے شیخ زید اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں آگ لگنے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا،ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ نے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کر لی۔
ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر رحیم یار خان کو موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی ، انتظامیہ کے مطابق واقعہ کی وجوہات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسپتال انتظامیہ سے واقعہ کی مکمل تفصیلات اور رپورٹ طلب کر لی گئی،آگ لگنے کے واقعہ کی تحقیقات کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
لاہور جنرل اسپتال میں کیا ہوا تھا؟
4 روز قبل ہی لاہور جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی ، خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو بحفاظت وارڈ سے باہر نکال لیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ ایگزاسٹ فین سسٹم میں لگی جس کے باعث وارڈ اور اس سے منسلک راہداری دھویں سے بھر گئی۔ دھویں کے باعث ایک سکیورٹی گارڈ کی طبیعت بگڑ گئی جنہیں ایمرجنسی میں طبی امداد دی گئی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فریاد حسین کے مطابق اسپتال کے عملے کو دی جانے والی فائر سیفٹی تربیت اس موقع پر مؤثر ثابت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور کسی بیرونی مدد کے بغیر فائر ایکسٹنگوشرز کی مدد سے آگ بجھا دی گئی۔
ڈاکٹر فریاد حسین کے مطابق واقعے میں کسی شخص کو چوٹ نہیں آئی اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا، جبکہ مریضوں اور بچوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
پمز میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ
26 اگست 2026 کواسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔
آگ پمز اسپتال کی تیسری منزل پر واقعہ نیونیٹل وارڈ (نومولود کی انتہائی نگہداشت کا شعبہ) میں صبح 6 بج کر 54 منٹ پر لگی۔
اس حوالے سے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے ابتدائی رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق پمز اسپتال کے چلڈرن نرسری وارڈ میں آگ کی اطلاع 26 اگست کو صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں 6 منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی طور پر نرسری سے شدید دھواں اٹھنے کی اطلاع دی گئی۔
سی ڈی اے رپورٹ میں آتشزدگی کی ممکنہ وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈ قرار دی گئی تھی،سی ڈی اے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ نرسری میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے، ایمرجنسی ایگزٹس اور راستے باہر سے مستقل طور پر بند یا ان کے سامنے رکاوٹیں موجود تھیں۔
رپورٹ کے مطابق اسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر فائٹنگ عملے کی ابتدائی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی جبکہ جائے وقوعہ پر مناسب کروڈ مینجمنٹ بھی موجود نہیں تھی۔




