امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو روزانہ نیا دھرنا شروع ہوگا۔
سوات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی سے چترال تک تاریخی ہڑتال ہوئی اور گزشتہ روز عوام نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے جماعت اسلامی کا ساتھ دیا، یہ تحریک عام لوگوں کی آواز ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس استثنیٰ دینا عوام کا جائز مطالبہ ہے
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، پیٹرولیم لیوی کی وجہ سے ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے۔ عوام پیٹرول خریدنے پر 35 فیصد بھتہ دے رہے ہیں، حکمران اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ماضی میں ٹیکس میں ریلیف دیا گیا تھا، علاقے کے لوگوں پر بدامنی مسلط کی گئی، اس لیے جب تک حالات معمول پر نہیں آتے ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکسوں میں استثنیٰ دیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیے گئے اور انہیں مالکانہ حقوق نہیں دیے جا رہے، حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں کمی جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں ہوئی ہے، حکمران اب کہہ رہے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی کم نہیں کرسکتے، اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔
پہییہ جام کے بعد پیدل مارچ، ملک گیر احتجاج کا اعلان
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ پرسوں سے سوات کے نشاط چوک میں دھرنا شروع ہوگا، انہوں نے کہا کہ اب جو ہڑتال ہوگی وہ صرف شٹر ڈاؤن نہیں بلکہ پہیہ جام ہوگی، دس دن بعد آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پہیہ جام کے بعد پیدل مارچ کیا جائے گا، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ سے عوام نکلیں گے اور پورا پاکستان جام ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عنقریب ایک بڑی کال دیں گے، اگر حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا اور کمیٹی نے درست طریقے سے کام نہ کیا تو حکومت گراؤ، انقلاب لاؤ مارچ ہوگا۔
حکومت سن لے!
عوام کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اگلا مرحلہ "حکومت گراؤ، انقلاب لاؤ مارچ" ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کردیا: پھر حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔#SwatWithHafizNaeem pic.twitter.com/rtXQY6hUH4— Inayatullah Khan (@Inayat01) September 4, 2026
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا زوال شروع ہوگیا ہے، عوام کا غیظ و غضب دیکھ کر انہیں ریلیف دینا ہوگا، اگر حکمران جماعت اسلامی کے مطالبات کو ہوا میں اڑائیں گے تو خود اڑ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت یہ سمجھ رہی تھی کہ وزراء کے بیانات کے ذریعے مایوسی پھیلائی جائے گی، لیکن عوام اب حقیقت جان چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں پر سود عوام ادا کررہے ہیں، آئی پی پیز کے نام پر ناجائز معاہدے کیے گئے اور عوام پر ٹیکس لگا کر چند لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس معاملے کو عوام کے سامنے لایا ہے۔



