امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر کا جنگی سامان فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس فروخت کی منظوری امریکی محکمہ خارجہ نے دی ہے۔ مجوزہ فروخت میں بم، گائیڈنس کٹس اور دیگر متعلقہ سازوسامان شامل ہیں، جبکہ اس معاہدے کا مرکزی کنٹریکٹر امریکی کمپنی بوئنگ ہوگی۔
دی سٹیس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ پیکج میں 10 ہزار جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER) شامل ہیں۔
ایئرفورس ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک جدید گائیڈنس کٹ ہے جو عام روایتی بموں کو انتہائی درست نشانہ بنانے والے اسمارٹ بموں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اسے امریکی کمپنی بوئنگ نے آسٹریلیا کے تعاون سے تیار کیا ہے۔
دی سٹیس مین کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان گائیڈنس کٹس میں 5 ہزار KMU-572 اور انتی ہی تعداد میں KMU-556 گائیڈنس کٹس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو تقریباً 75 کروڑ ڈالر مالیت کے AGT-1500 انجنوں کی ممکنہ فروخت کی بھی منظوری دی ہے۔ اس سودے کے لیے مرکزی ٹھیکیدار ہنی ویل ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدے سے سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیت بہتر ہوگی اور وہ موجودہ اور مستقبل کے علاقائی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس سے سعودی عرب کی ملکی دفاعی صلاحیت مضبوط ہونے کے ساتھ امریکی افواج اور خلیجی خطے کے دیگر شراکت داروں کے زیر استعمال نظام کے ساتھ سعودی دفاعی نظام کی باہمی مطابقت بھی بہتر ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فروخت ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کی سیکیورٹی بہتر بنا کر امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
محکمہ خارجہ نے مجوزہ فروخت کے بارے میں امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے، تاہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی قانون سازوں کی منظوری درکار ہوگی۔
دی سٹیس مین نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ امریکی دفاعی پیکیج کے تحت سعودی عرب کو 10 ہزار عمومی نوعیت کے بم بھی فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے 500 پاؤنڈ وزنی عمومی استعمال کے 5 ہزار بم اور اتنی ہی تعداد میں 200 پاؤنڈ وزنی بموں کی سیل کی بھی درخواست کی تھی۔
مجوزہ معاہدے کے تحت امریکی حکومت اور متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے سعودی عرب کو انجینئرنگ، تکنیکی معاونت اور لاجسٹک خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔
بموں کی فروخت کا یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں دفاع کے ساتھ ساتھ جوہری تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک نے 22 جولائی کو پُرامن جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے عموماً ’123 معاہدہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ دوطرفہ حفاظتی معاہدہ بھی کیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق جوہری معاہدہ سعودی عرب کے سول نیوکلیئر انرجی پروگرام میں امریکی کمپنیوں کی رسائی بڑھانے کے ساتھ جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے عمان اور عراق کے لیے بھی 2 دفاعی پیکج منظوری کیے ہیں۔عمان کو F-16 طیاروں کی دیکھ بھال اور معاونت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے 188 ملین ڈالر مالیت کے ممکنہ معاہدے کی منظوری کیسا تھ ساتھ عراق کو 150 ملین ڈالر مالیت کے Bell 412EPX ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔


