پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائنی وارڈ میں لگنے والی آگ اور اس کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد پشاور کے3بڑے سرکاری اسپتالوں کی فائرسیفٹی کی ازسرنوجانچ جاری ہے۔
ذرائع محکمہ صحت کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں فائرالارم سسٹم کمزورہونے کا انکشاف ہوا ہے، ایچ ایم سی کےوارڈزمیں آگ بجھانے والے آلات کی قلت ہے،مختلف وارڈزمیں صرف ایک فائرایکسٹنگوشرنصب ہے۔
فائرسیفٹی کیلئےایچ ایم سی میں 400فائرایکسٹنگوشرزموجود ہیں، ترجمان ایچ ایم سی کے مطابق مختلف آلات کی کمی پوری کرنےکیلئے کمیٹی تشکیل دےدی گئی ہے۔
دوسری جانب خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ہروارڈ میں 4 فائرفائٹنگ آلات اورایمرجنسی راستےموجود ہیں ،ترجمان کے مطابق کےٹی ایچ میں آگ بجھانے کیلئے واٹر پائپ لائن سسٹم بھی موجود ہیں۔
اسی طرح لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آرایچ ) کا ہروارڈ فائر الارم اورکوئیک ریسپانس فورس سے لیس ہے،ایل آر ایچ میں 550فائرایکسٹنگوشرز اور6 فائرایگزٹ موجود ہیں ۔
ترجمان کے مطابق نرسری میں 12 آگ بجھانے والے آلات نصب اور مکمل فعال ہیں،ریسکیو 1122کےتعاون سے10سال سے فائرسیفٹی ٹریننگ جاری ہے،
اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ پمزواقعے کے بعد تینوں اسپتالوں کے فائرسیفٹی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لیا جارہا ہے۔



