وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے پمز آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ صرف ابتدائی رپورٹ ہے اور انکوائری کمیٹی نے ابھی اپنا کام مکمل نہیں کیا۔
طارق فضل چودھری نے واضح کیا کہ وزیرصحت کوبچانے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی اورانکوائری مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پمز میں فنڈزاوراسٹاف کی کمی نہیں ہونے دی گئی اگراسپتال کومطلوبہ فنڈزفراہم نہ کئے جاتے تو وزیر صحت سے سوال بنتا کہ انہوں نے فنڈزمختص کیوں نہیں کرائے۔
اسی طرح اگر اسپتال میں اسٹاف یا بھرتیوں کی کمی ہوتی تو اس صورت میں بھی وزیرصحت کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پمز آتشزدگی کے معاملے پر وزیرصحت نے انکوائری اجلاس کے دوران براہ راست وزیراعظم محمد شہباز شریف کو اپنے استعفے کی پیشکش کی تھی تاہم وزیراعظم نے وزیر صحت کو ہدایت کی کہ جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوجاتی، وہ استعفیٰ نہ دیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ رپورٹ کو حتمی سمجھنا درست نہیں، کیونکہ انکوائری کمیٹی ابھی اپنی کارروائی مکمل نہیں کرچکی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت حقائق سامنے لانے کیلئے انکوائری کے عمل کو مکمل ہونے دے گی اور ذمہ داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ حکومت کسی فرد کو تحفظ دینے کے بجائے اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین چاہتی ہے۔
ان کے مطابق اسپتال میں فنڈز، سہولیات اور افرادی قوت سے متعلق ریکارڈ بھی انکوائری کا حصہ ہوگا جبکہ کمیٹی کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔



