ملک میں سونے کی قیمت ایک بار پھر بلند سطح پر پہنچ گئی۔
گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 11 ہزار 200 روپے کا اضافہ ہوا تھا ، اس طرح دو دن کی دوران سونے کے نرخ میں 15 ہزار 100 کا بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 3 ہزار 900 روپے اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 69 ہزار 136 روپے ہوگئی۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 344 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 2 ہزار 208 روپے کا ہوگیا۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 39 ڈالر کا اضافہ ہونے سے فی اونس قیمت 4 ہزار 466 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی، عالمی معاشی صورتحال میں غیر یقینی اور جغرافیائی کشیدگی شامل ہیں۔
عالمی سطح پر سرمایہ کار معاشی اور سیاسی غیر یقینی کے دوران سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ قیمتوں کو اوپر لے جاتا ہے۔
اس کے علاوہ عالمی سطح پر شرحِ سود میں کمی یا مستقبل میں شرحِ سود کم ہونے کی توقعات بھی سونے کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہیں کیونکہ کم شرحِ سود کے ماحول میں غیر سودی اثاثے کے طور پر سونے کی کشش بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان میں عالمی قیمت کے ساتھ ساتھ روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ بھی مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے، عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے یا روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں مقامی سطح پر سونا مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔
سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث زیورات خریدنے والے صارفین کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جبکہ سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدنے والے افراد بھی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔



