وفاقی حکومت نے پمز سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد 7 افسران کو معطل اور ان کی جگہ نئی تعیناتیاں کردیں جن کے نوٹیفکیشن بھی جاری کردئیے گئے۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر 120 روز کیلئے معطل کردئیے گئے انکی جگہ ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا،وہ 3سال یا مستقل افسر کی دستیابی تک پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہیں گے۔
جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل چودھری وارث علی رضا بھی 120 روز کیلئے معطل کئے گئے ہیں ان کی جگہ ڈاکٹر الطاف حسین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل کا اضافی چارج دے دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پمز کی پروفیسر و ہیڈ آف آبز اینڈ گائنی ڈاکٹر نوشیلا امجد 120 روز کے لیے معطل ہوگئیں ، ان کی جگہ ڈاکٹر شمیلہ کو پروفیسر و ہیڈ آف آبز اینڈ گائنی کا موجودہ چارج دے دیا گیا۔
اسی طرح جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن اسپتال ڈاکٹر مطاہر شاہ بھی 120 روز کیلئے معطل کردئیے گئے ان کی جگہ ڈاکٹر نزہت یاسمین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن اسپتال کا اضافی چارج سونپ دیا گیا۔
سینئر رجسٹرار آبز اینڈ گائنی ڈاکٹر نگم نواز بھی 120 روز کے لیے معطل ہوگئیں ، ان کی جگہ ڈاکٹر آمنہ کو سینئر رجسٹرار آبز اینڈ گائنی ایم سی ایچ کا موجودہ چارج سونپ دیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرکس ڈاکٹر سعدیہ ریاض بھی 120 روز کیلئے معطل ہونگی،ڈاکٹر رحمانہ کو ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرکس چلڈرن اسپتال کا موجودہ چارج دے دیا گیا۔
پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان بھی 120 روز کیلئے معطل کردئیے گئے ،انکی جگہ حسن اشرف کو پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کا اضافی چارج دے دیا گیا۔
اسی طرح پمز کی چارج نرس نسرین اور لیڈی سیکیورٹی اسٹاف ماریا کو ایڈمن پول بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کو بریفنگ میں کیا بتایا گیا؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال سے متعلق تفصیلی ایس او پیز اور تربیت موجود نہیں تھی۔ پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف 2 ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر تھا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں صرف 2 نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ لگنے سے پورا وارڈ جلنے میں صرف 2 منٹ لگے، تاہم ایک نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آگ پھیلنے سے قبل ایک بچے کی جان بچالی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی، جبکہ پہلا رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔ وارڈ میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا۔
بریفنگ کے مطابق جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے باوجود حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے، جبکہ نیونیٹل وارڈ میں عالمی ادار صحت کے متعلقہ قواعد کی بھی خلاف ورزی پائی گئی۔ اسپتال میں ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی مخصوص افسر موجود نہیں تھا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی طور پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
اجلاس کو پمز اسپتال کی خستہ حالت اور بدانتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تحقیقات مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔




