ملک میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہفتہ واربنیادوں پر0.65 فیصد اورسالانہ بنیادوں پر8.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان بیورو برائے شماریات کی جانب سے قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی) کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 3 ستمبرکوختم ہونے والے ہفتہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کاحساس اشاریہ 363.42 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا جو پیوستہ ہفتہ میں 361.07 پوائنٹس تھا۔
گزشتہ ہفتہ کے دوران روزمرہ استعمال کی 7 اشیاءکی قیمتوں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا، اس کے برعکس 17 اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتہ کے دوران کیلے کی قیمت میں 2.54 فیصد، دال مونگ 0.69 فیصد، ایل پی جی 0.45 فیصد، چینی 0.18 فیصد، انڈے 0.11 فیصد، دال چنا 0.06 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 0.05 فیصد کی کمی ہوئی۔
پیاز کی قیمت میں 26.30 فیصد، ٹماٹر 2.55 فیصد، آلو 0.96 فیصد، پیٹرول 0.90 فیصد، آٹا 0.88 فیصد، چکن 0.85 فیصد، دال ماش 0.67 فیصد، لہسن 0.18 فیصد، سرسوں کا تیل 0.13 فیصد اورڈیزل کی قیمت میں 0.09 فیصد کا اضافہ ہوا۔
صارفین کیلئے قیمتوں کاحساس اشاریہ ملک کے 17 بڑے شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی بیشی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردو بدل کیا جاتا ہے ، ملک میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اشیاء خور و نوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
دوسری جانب آمدن میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہونے کے باعث متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے لیے گھر کا بجٹ چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔مہنگائی میں اضافے کے اثرات صرف بازار تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
بڑھتی قیمتوں کے باعث شہریوں نے غیر ضروری اخراجات کم کرنا شروع کردیئے ہیں جبکہ کئی خاندان خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات میں بھی سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں۔
صورتحال نے حکومت کے لیے مہنگائی پر قابو پانے، قیمتوں کی نگرانی بہتر بنانے اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے چیلنج کو مزید اہم بنا دیا ہے۔



