وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔
وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 4 ستمبر 2026 سے ہوگا۔
پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 84 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 349 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 346 روپے 16 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس سے قبل ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 372 روپے 3 پیسے فی لیٹر تھی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں پر نظرثانی کی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی اہم عنصر
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، شرح تبادلہ، ٹیکسز اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات نے بھی توانائی کی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان چونکہ اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے سے مقامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر موٹر سائیکل، رکشوں، کاروں اور دیگر نجی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے شہریوں پر پڑے گا جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال بردار گاڑیوں، بسوں، زرعی مشینری اور دیگر ڈیزل سے چلنے والے شعبوں کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم کے اس فیصلے کے بعد ملک میں پہلے سے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے سفری اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے اثرات اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور قیمتوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔



