• LIVE
    MON SEP 07 2026 | 06:16 PM

    ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ

    دشمن کو اپنے مقاصد کے حصول سے روکنا ایرانی بحریہ کا بنیادی مشن ہے، کمانڈر ایرانی بحریہ
    ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ

    تہران: ایرانی بحریہ کے کمانڈر شاہرام ایرانی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ضرورت پڑنے پر دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی بحریہ کے کمانڈر شاہرام ایرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی کارروائیوں نے مخالفین کو حیران کیا اور ان کی جنگی صلاحیتوں کو متاثر کیا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ نے دشمن کے جنگی جہازوں کی آپریشنل صلاحیت طویل عرصے تک متاثر کی۔

    کمانڈر ایرانی بحریہ نے واضح کیا کہ دشمن کو اپنے مقاصد کے حصول سے روکنا ایرانی بحریہ کا بنیادی مشن ہے، جبکہ مخالف افواج کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ کر دی۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اور جنوبی کوریا کے تعلقات 64 سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں، جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اس وقت امریکی جارحیت کے خلاف دفاع میں مصروف ہیں، خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہو گی، آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی شرکت قابل قبول نہیں۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہیئے، امریکا نے خطے پر وحشیانہ جنگ مسلط کی اور اب اس کی ادائیگی پوری دنیا سے کرانے کی توقع کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے سے قبل آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی، امریکا کی جارحیت کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہوا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، امریکا دنیا کے سامنے اپنے ہی پیدا کردہ خلل کو ایران کے نام کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی شروع کی گئی جنگ کی وجہ ایران کے طرزعمل کو قرار دینا چاہتا ہے۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔

  • MON SEP 07 2026 | 10:45 AM

    آبنائے ہرمز ‘مکمل بند’ ہے، خلیج میں جلد ایک اور ‘ممنوعہ زون’ قائم کریں گے، ایران

    ایران نے 48 گھنٹے قبل پہلی بار نئے اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے خوفزدہ ہو کر ایک امریکی بحری جہاز فرار ہو گیا، محسن رضائی
    آبنائے ہرمز ‘مکمل بند’ ہے، خلیج میں جلد ایک اور ‘ممنوعہ زون’ قائم کریں گے، ایران

    ایران نے آبنائے ہرمز کے باہر ایک نیا ممنوعہ بحری زون قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے ہر بحری جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا۔

    ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نیا بحری زون آئندہ چند روز میں قائم کیا جائے گا جو امریکی بحریہ کی قائم کردہ ناکہ بندی کی حد سے شروع ہو کر خلیج کے مختلف حصوں تک پھیلے گا۔

    محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئے بحری راستے کے معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کے داخلی اور خارجی راستے ایران کے کنٹرول میں ہوں گے۔

    <blockquote class=”twitter-tweet”><p lang=”en” dir=”ltr”>Chief of General Staff of the Iranian Armed Forces, Major General Ali Abdollahi, says the Iranian nation will never surrender, and the future will witness the definite decline of American power.<br><br>Follow Press TV on Telegram: <a href=”https://t.co/GHI09iA8ru”>https://t.co/GHI09iA8ru</a> <a href=”https://t.co/7Dp1P0X8ol”>pic.twitter.com/7Dp1P0X8ol</a></p>&mdash; Press TV 🔻 (@PressTV) <a href=”https://x.com/PressTV/status/2096637048895557964?ref_src=twsrc%5Etfw”>September 6, 2026</a></blockquote> <script async src=”https://platform.x.com/widgets.js” charset=”utf-8″></script>

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر بند‘ ہے اور مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے ’بڑا جھوٹ‘ ہے۔

    ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے قبل روزانہ 100 سے زائد بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، جو 10 کروڑ ٹن سے زیادہ سامان لے جاتے تھے، تاہم اب صرف 7 یا 8 جہاز ایران کے لیے ضروری اشیا لے کر آبنائے سے گزر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا بھاری اخراجات کے باوجود 5 سے 6 بحری جہاز آبنائے سے گزارنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ’عموماً یہ جہاز نشانہ بن جاتے ہیں‘۔ محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے ان جہازوں کو غرق کرنے سے گریز کیا کیونکہ ان میں تیل موجود ہے اور ایسا کرنے سے خطے کے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    محسن رضائی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ “48 گھنٹے  پہلے ہم نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے اوپر سے نئے اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا” جس سے خوفزدہ ہو کر امریکی وہاں سے بھاگ گئے۔  تاہم انہوں نے جہاز کا نام یا تجربے کی جگہ کے بارے میں بات نہیں کی۔

    دوسری جانب انہوں نے ایران میں امریکی معاشی ناکہ بندی کے باعث بڑے پیمانے پر قحط کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طویل عرصے سے اس صورتحال کی تیاری کر رکھی ہے اور خوراک و دیگر ضروری اشیا کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

    ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بڑھ گئی تھی۔ تہران نے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

    جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا نے ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کیے تھے، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور معاشی پابندیوں سے متعلق اقدامات شامل تھے۔ تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر اس معاہدے پر عمل نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور پابندیوں کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔

  • SUN SEP 06 2026 | 03:22 PM

    جنگ کےاصول تبدیل ، حملےکا جواب پہلے سے زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا، ایران نے امریکا کو خبردار کردیا

    امریکی حکام کو بہت دیر ہونے سے پہلے بدلتے ہوئے حالات اور کھیل کے نئے اصولوں کو سمجھ لینا چاہیے،ایرانی اسپیکرمحمد باقر قالیباف
    جنگ کےاصول تبدیل ، حملےکا جواب پہلے سے زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا، ایران نے امریکا کو خبردار کردیا

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے گئے خوفناک حملوں کے بعد امریکی حکام مایوسی کے عالم میں میدانِ جنگ کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔

    اپنے ایک بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی حکام یقینی طور پر سمجھتے ہیں کہ متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے جبکہ حالیہ کارروائیوں کے دوران امریکی اڈوں پر ایران کے حملے صرف ابتدا تھے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق اگر امریکا نے اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو اسے بہت دیر ہونے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے اصول تبدیل ہوچکے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اب ایران کی سکیورٹی اور اثاثوں کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب پہلے سے زیادہ تیزی، شدت اور تکلیف دہ انداز میں دیا جائے گا۔

    قالیباف نے امریکی حکام کی جانب سے میدانِ جنگ سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کے حوالے سے بھی الزام عائد کیا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے جانے والے خوفناک حملوں کے باعث مایوسی کا شکار ہیں اور اپنے بے معنی اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے صورتِ حال کو پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں کو متناسب ردعمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔

    واضح رہے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے یہ بیانات ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

  • SAT SEP 05 2026 | 10:29 PM

    امریکا کا ایران کے 3 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی افواج کے دفاع کے لیے امریکا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا، سینٹ کام
    امریکا کا ایران کے 3 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے 3 آئل ٹینکرز تباہ کر دیئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سینٹ کام نے جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے علاقائی پانیوں میں گشت کرنے والے دو امریکی بحری جنگی جہازوں پر حملے کے بعد کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے متعدد حملوں سے بچنے میں کامیاب رہے اور کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے ایرانی تیل بردار جہاز ایم ٹی ڈاؤنی کو جزیرہ خارگ کے ساحل کے قریب اور ایم ٹی اسٹارک ون کو جاسک کے قریب نشانہ بنایا، جبکہ خلیج عمان میں موجود خالی تیل بردار جہاز ایم ٹی کائلو کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

    سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ تینوں ایرانی ٹینکر ایسے اربوں ڈالر کے ’’شیڈو نیٹ ورک‘‘ کا حصہ تھے جو پاسداران انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔

    سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے، اگر ایران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو امریکا اس سے بھی زیادہ معاشی پابندیاں عائد کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے دفاع کے لیے امریکا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل بردار بیڑے کو تباہ کر دے گا۔

  • SAT SEP 05 2026 | 03:02 PM

    خارگ جزیرے کے قریب دھماکے، ایرانی ٹینکر کو نشانہ بنانے کی غیر مصدقہ اطلاعات

    دھماکوں کے مقام پر دھویں کے آثار نہیں ملے، ایران اور امریکا نے واقعے کی فوری تصدیق نہیں کی
    خارگ جزیرے کے قریب دھماکے، ایرانی ٹینکر کو نشانہ بنانے کی غیر مصدقہ اطلاعات

    خلیج میں ایران کے خارگ جزیرے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ ایرانی میڈیا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے ایک ایرانی ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی رپورٹ کی ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق خلیج سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم دھماکوں کے بعد کسی قسم کے دھویں کے آثار نظر نہیں آئے۔

    ریاست سے وابستہ ایرانی نیوز ایجنسی نورنیوز نے مقامی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب ایرانی نیوز ویب سائٹ عصر ایران نے دعویٰ کیا کہ ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے 4 پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت ٹینکر سے سامان اتارا جا رہا تھا۔

    تاہم ان اطلاعات کے حوالے سے ایران یا امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں بھی ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کو غیر مصدقہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ دھماکوں کی وجہ اور مقام کے بارے میں بھی کوئی حتمی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی۔

    ٹرمپ کا خارگ جزیرے سے متعلق ماضی میں دیا گیا بیان

    خارگ جزیرے کے قریب دھماکوں کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 اگست 2026کو جزیرے سے متعلق ایک مختصر سوشل میڈیا بیان جاری کیا تھا۔

    ٹرمپ نے اپنی ایک سطری پوسٹ کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ خارگ جزیرہ ’’ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے‘‘۔

    ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایرانی حکام نے خارگ جزیرے پر حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

  • FRI SEP 04 2026 | 11:33 PM

    امریکا ایران جنگ، دوبارہ کشیدگی نے خطے اور عالمی معیشت کو خطرے سے دوچار کردیا

    ایران کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی امریکی کارروائی ’’زیادہ دیر‘‘ جاری نہیں رہے گی،ٹرمپ
    امریکا ایران جنگ، دوبارہ کشیدگی نے خطے اور عالمی معیشت کو خطرے سے دوچار کردیا

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے اور عالمی معیشت کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے امریکا نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

    جنگ کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا تھا

    امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جن میں ایران کے اہم فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی مارے گئے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی ماہ تک جنگ جاری رہی۔

    بعد ازاں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا، تاہم یہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ جولائی میں دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور امریکا نے ایران سے متعلق بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ کردیا۔

    آبنائے ہرمز تنازع کا مرکزی نقطہ بن گئی

    موجودہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی خام تیل اور ایل این جی کی روزانہ سپلائی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔ جنگ اور امریکی ناکہ بندی کے بعد یہاں سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

    4 ستمبر کو صرف چار کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔

    آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے جبکہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خطرہ ہے۔

    امریکا میں جنگ کی مقبولیت بھی سوالیہ نشان

    جنگ کے اندرونی سیاسی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق صرف تقریباً ایک چوتھائی امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ قابلِ قدر رہی، جبکہ نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی امریکی کارروائی ’’زیادہ دیر‘‘ جاری نہیں رہے گی، تاہم خطے میں تازہ حملوں کے بعد جنگ کے مزید پھیلاؤ کے خدشات برقرار ہیں۔

    یوں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ تیل کی عالمی قیمتوں، عالمی تجارت، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اور خطے کی سلامتی پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔

  • THU SEP 03 2026 | 07:03 PM

    ایران کی توانائی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیر دفاع کی ایک بار پھر دھمکی

    ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل کو ایران پر کارروائی کی تمام پابندیوں سے آزادی ہوگی، اسرائیل کاٹز
    ایران کی توانائی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیر دفاع کی ایک بار پھر دھمکی

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے توانائی، فوجی اور شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔

    رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے جمعرات کو وزارت دفاع کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے کی صورت میں اسرائیل کو ایران پر حملے کی موجودہ تمام پابندیوں سے آزادی حاصل ہوجائے گی۔

    ایران کے توانائی مراکز بھی نشانے پر ہوں گے

    اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی حملے کے جواب میں اسرائیل ایران کے قومی، فوجی اور شہری انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچائے گا، جس میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہوگا۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران کو ’’پتھر کے دور اور تاریکی‘‘ میں واپس پہنچا دے گا، کاٹز کے مطابق اسرائیل دفاعی اور جارحانہ دونوں محاذوں پر مختلف ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے اور اسرائیلی فوج کارروائی کے لیے تیار ہے۔

    خطے میں کشیدگی اچانک دوبارہ بڑھ گئی

    اسرائیلی وزیر دفاع کی تازہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید فوجی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان جولائی کے بعد سب سے بڑا حملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔

    اسرائیل اس تازہ ترین لڑائی میں براہ راست شامل نہیں ہوا تاہم اسرائیل اور امریکا نے فروری میں ایران کے خلاف مشترکہ فضائی جنگ شروع کی تھی، موجودہ حالات میں اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی دھمکی نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

    اسرائیل کو ایرانی حملے کا خدشہ کیوں؟

    اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر موجود شدید معاشی دباؤ، داخلی بے چینی اور حکومت کے خلاف ممکنہ عوامی ردعمل تہران کو ’’مایوس کن اقدامات‘‘ کی طرف دھکیل سکتا ہے، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ایرانی حملے کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی بھی دباؤ کا شکار ہے، رائٹرز کے مطابق 3 ستمبر کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

    آبنائے ہرمز بھی عالمی تشویش کا مرکز

    موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کیا ہے اور پابندی والی فہرست میں شامل جہازوں کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔

    آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں کشیدگی بڑھنے سے عالمی توانائی کی سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

    اس صورتحال میں اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے ایرانی توانائی اور شہری انفرااسٹرکچر کو براہ راست نشانہ بنانے کی دھمکی خطے میں جاری تنازع کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان بھی فوجی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرچکی ہے۔

  • THU SEP 03 2026 | 04:51 PM

    ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ

    اب امریکا فوٹوشاپ کے ذریعے ہی تیل بردار جہازوں کو بھی اس گزرگاہ سے گزار سکتا ہے، ایران
    ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ

    تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی آپریشنل کوآرڈینیشن کے ذمہ دار خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ رات کی کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز کے جنوب میں غیر قانونی بحری راستوں پر مزید بحری بارودی سرنگیں بچھائی دی گئی ہیں۔

    ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے اسے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھنے کی تجویز کا بھی تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) صرف فوٹوشاپ کے ذریعے آبنائے کا نام تبدیل کر سکتی ہے۔

    طنزیہ انداز میں ایرانی ترجمان نے کہا کہ مسئلہ حل ہو گیا، اب امریکا فوٹوشاپ کے ذریعے ہی تیل بردار جہازوں کو بھی اس گزرگاہ سے گزار سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے قبل سینٹکام نے اعلان کیا تھا کہ سمندری آمدورفت کے تمام راستوں سے بحری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں اور تیل بردار جہازوں کے سرنگوں سے ٹکرانے سے متعلق اطلاعات کو گمراہ کن قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ دو تیل بردار بحری جہاز، جن کے عملے کو امریکی فوج کے کہنے پر اتار دیا گیا تھا، غیر قانونی راستے سے گزرنے کے لیے امریکہ کے اختیار میں دیئے گئے اور بعد ازاں بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے اور آگ کی لپیٹ میں آگئے۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق ہماری بحریہ نے بارودی سرنگوں سے لیس گزرگاہ عبور کرنے کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔ لیکن جو بحری کمپنیاں قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکا کے دھوکے میں آکر اپنے جہاز دشمن کے اختیار میں دیتی ہیں، ان کے لیے اضافی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز امریکا کے کنٹرول میں ہے اور صحافی کے سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں آبنائے ہرمز کا نام بدل کر آبنائے ٹرمپ رکھ دینا چاہیئے؟

    ایران پر حملے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایران پر ایک اور حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ ایران کے خلاف حملوں کی نئی مہم زیادہ عرصے جاری نہیں رہے گی۔ ایران ریڈار اور میزائل سسٹمز دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

  • WED SEP 02 2026 | 10:16 PM

    ایران ایٹمی طاقت بننے سے بس دو ہفتے دور تھا، اسی لیے کارروائی کی، ٹرمپ

     ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے دیئے جاتے تو وہ استعمال کرچکا ہوتا، امریکی صدر
    ایران ایٹمی طاقت بننے سے بس دو ہفتے دور تھا، اسی لیے کارروائی کی، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے سے صرف دو ہفتے دور تھا، اسی لیے امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کردیا۔

    سوشل میڈیا پرجاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جاتی تو وہ انہیں استعمال کرچکا ہوتا۔

    امریکی صدر نے اپنے دعوے کے حق میں مزید کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا امریکا کی کارروائی کا اہم مقصد تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اورایران کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ امریکا ’’حیرت انگیز نتائج‘‘ حاصل کررہا ہے تاہم انہوں نے اپنے بیان میں ان نتائج کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    امریکی صدرنے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ اب امریکی کنٹرول میں ہے، انہوں نے سوشل میڈیا پرسوال اٹھایا کہ کیا آبنائے ہرمزکا نام تبدیل کردینا چاہیے؟

    ٹرمپ کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اورایران کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے میں آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

    امریکی صدرکے تازہ دعووں نے ایران کی جوہری صلاحیت اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔

  • WED SEP 02 2026 | 03:19 PM

    کوئی طاقت شیطان کی طرح برتاؤ کرے تو وہ شیطان ہی ہے، باقر قالیباف

    سیریک میں شادی کی تقریب پر حملے نے میناب اور لامرد میں ہونے والے وحشیانہ امریکی جرائم کی یاد تازہ کر دی، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
    کوئی طاقت شیطان کی طرح برتاؤ کرے تو وہ شیطان ہی ہے، باقر قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر کوئی طاقت شیطان کی طرح برتاؤ کرے۔ شیطان کی طرح اہداف کا انتخاب کرے اور شیطان کی طرح قتل کرے تو وہ شیطان ہی ہے اور ایسے شیطان کو تحفظ فراہم کرنے والا اس سے بڑا شیطان ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے جنوبی ایران کے جزیرہ سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکا کے گزشتہ رات کے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے نے میناب اور لامرد میں کئے جانے والے وحشیانہ امریکی جرائم کی یاد تازہ کر دی۔

    انھوں نے ایکس پر انگریزی زبان میں اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ “لامرد کے اسپورٹس کمپلیکس پر وحشیانہ حملہ، میناب میں بچوں کا قتل عام اوراس کے بعد سیریک میں شادی کی تقریب پر حملہ اور اپنے گھروں والوں کے ساتھ  بچوں کی شہادت۔ ”

    واضح رہے کہ امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملے کیے ہیں اور اس بار ایک شادی والا گھر بھی امریکی حملوں کی زد میں آ گیا ہے۔

    ایرانی ریڈ کریسنٹ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں منگل کی شام جنوبی شہر کوہستک میں امریکی فضائی حملوں کا نشانہ بننے والا ایک گھر دکھایا گیا ہے۔

    اس گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ امریکی ڈرون حملے نے اس گھر میں موجود خوشیوں کے ماحول کو ماتم میں تبدیل کر دیا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کرمانشاہ صوبے میں پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے 4 اہلکار امریکی حملے میں شہید ہوئے ہیں۔

     

  • TUE SEP 01 2026 | 11:33 PM

    امریکا کے پاسداران انقلاب کے اہداف پر تازہ حملے، امریکی صدر کی ایران کو پھر دھمکی

    ایران کی جانب سے داغے گئے 8 میزائلوں کو کامیابی سے مار گرایا گیا، ٹرمپ
    امریکا کے پاسداران انقلاب کے اہداف پر تازہ حملے، امریکی صدر کی ایران کو پھر دھمکی

    واشنگٹن: امریکا نے ایران کے پاسداران انقلاب کے اہداف پر نئے حملے شروع کردیئے۔ امریکی صدر نے کہا کہ حملے بڑے پیمانے پر اور انتہائی طاقتور ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کے اہداف پر آج کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کو درپیش خطرات کا جواب دینا ہے۔

    سینٹ کام کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں پر حملوں کی کوشش کی تھی، جس کے بعد امریکی افواج نے پاسداران انقلاب کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

    امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کا تحفظ کارروائی کی اہم وجہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جس کے باعث خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

    دوسری جانب حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ حملے بڑے پیمانے پر اور انتہائی طاقتور ہیں۔ جو اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں کا جواب ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے 8 میزائلوں کو کامیابی سے مار گرایا گیا۔ جبکہ ایرانیوں کی جانب سے بچھائی گئی باردوی سرنگیں اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود نہیں ہیں۔ بارودی سرنگوں کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا یا دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

    Trump

    انہوں نے کہا کہ ایران نے جوابی حملے کیے تو اس سے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا اور جب وہ حملہ ختم ہو گا تو ایران کا بہت کم حصہ باقی بچے گا۔

ٹائم لائن
WhatsApp