• LIVE
    MON SEP 21 2026 | 09:02 AM

    آبنائے ہرمز کے اوپر جدید ڈرون تباہ کر دیا، امریکا نے غلطی کی تو اڈوں پر تکلیف دہ حملے کریں گے، ایرانی فوج

    امریکا کے اتحادی بننے والے ممالک کو ہم سے کسی تحمل کی توقع نہیں رکھنی چاہئے، خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز
    آبنائے ہرمز کے اوپر جدید ڈرون تباہ کر دیا، امریکا نے غلطی کی تو اڈوں پر تکلیف دہ حملے کریں گے، ایرانی فوج

    ایرانی فوج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اوپر جدید امریکی جاسوس MQ-1 ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔

    ایران کے سرکاری میڈیا ارنا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا کہ ڈرون کو مقامی ساختہ نظام کی فائرنگ سے نشانہ بنا یا گیا، یہ کارروائی مربوط قومی فضائی دفاعی نظام کے تحت کی گئی۔

    ایران بارہا اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کر چکا ہے اور خطے میں کسی بھی دشمن سرگرمی کے خلاف خبردار کرتا رہا ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کو ایرانی فوج نے امریکی MQ-9 ڈرون کو مار گرایا تھا۔ آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس نے ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے زیرِ کنٹرول نئے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے قشم جزیرے کے اوپر اس بغیر پائلٹ طیارے کو روک کر تباہ کر دیا تھا۔

    دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے ‘خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز’ نے امریکا اور خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا بھرپور فوجی ردعمل دیا جائے گا۔

    خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملے کی غلطی کی تو خطے بھر میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور مفادات پر تکلیف دہ حملے کریں گے۔

    امریکا کی ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاری

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی ممالک کے گرین سگنل پر امریکا ایک یورپی ملک میں طے شدہ اجلاس کے بعد ایران کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ خطے کے جو ممالک ایران کے حوالے سے اپنی دوہری پالیسی کو جاری رکھیں گے اور ایران کے خلاف امریکی اقدامات میں اس کے اتحادی بنیں گے انہیں ان کارروائیوں میں برابر کا شریک تصور کیا جائے گا اور ایسے ممالک کو ایرانی مسلح افواج سے کسی قسم کے تحمل کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

     

  • FRI SEP 25 2026 | 11:40 AM

    ٹرمپ سے ملاقات میں چینی صدر نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کر دی

    امریکا اور ایران بالآخر جوہری معاملے سمیت دیگر امور پر ایک جامع معاہدے تک پہنچ جائیں گے اور جلد امن قائم ہوگا، شی جن پنگ
    ٹرمپ سے ملاقات میں چینی صدر نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کر دی

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کے لیے چین امریکا اور ایران کی حمایت کرتا ہے۔

    چین کی اسٹیٹ کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ چین ہمیشہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام کا حامی رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    انہوں نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات کے حل کے لیے جلد از جلد مذاکرات کی جانب واپس آئیں اور بات چیت کے ذریعے معاملات طے کریں۔

    انہوں نے کہا کہ چین متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے کہ وہ مسائل کے پرامن حل کے عزم پر قائم رہیں اور مذاکرات کا عمل جاری رکھیں۔

    چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران بالآخر جوہری معاملے سمیت دیگر امور پر ایک جامع معاہدے تک پہنچ جائیں گے اور جلد امن قائم ہوگا۔

    ‘امریکا اور چین کا فوجی تصادم سے بچنا ہو گا’

    امریکی صدر سے ملاقات میں شی جن پنگ نے چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں وسیع تعاون پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ دونوں ممالک کو ایسے حالات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے جو انہیں فوجی تصادم کی جانب لے جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے اندرونی حالات مختلف ہیں، تاہم مسلسل مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے، اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات تلاش کرسکتے اور باہمی اعتماد بڑھا سکتے ہیں۔

    چینی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر بھی زور دیا اور کہا کہ بڑی طاقتوں کی حیثیت سے چین اور امریکا تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ محاذ آرائی دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

    انہوں نے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے اور بحرانوں سے نمٹنے اور ان کی روک تھام کے لیے مواصلاتی نظام بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    ان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مصنوعی ذہانت، تجارت اور تائیوان سمیت مختلف معاملات پر چین اور امریکا کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر محصولات بھی عائد کر چکے ہیں۔

    ملاقات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ امریکا کا دوسری مرتبہ سرکاری دورہ کرنے والے پہلے چینی رہنما ہیں۔ ان کا گزشتہ دورہ 2015 میں صدر براک اوباما کے دور میں ہوا تھا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ’بہت اچھی دوستی‘ قائم ہو گئی ہے اور دونوں ممالک کو درپیش معاملات پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی ٹیمیں زیادہ متوازن تجارتی تعلقات کے لیے کام کر رہی ہیں، جن میں امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی بھی شامل ہے۔

  • WED SEP 23 2026 | 09:43 AM

    ایران اور امریکا کے درمیان نیویارک میں رابطہ، جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط پیش

    صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، مارکو روبیو
    ایران اور امریکا کے درمیان نیویارک میں رابطہ، جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط پیش

    ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے نیویارک میں سفارتی رابطے تیز ہوگئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام اور ثالثوں سے ملاقات کی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی اور ایرانی فریق کے درمیان ہونے والی ملاقات تقریباً 3 گھنٹے جاری رہی اور یہ ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ رہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک اور ملاقات جلد متوقع ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا سے رابطہ کیا ہے۔

    امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے بھی مذاکرات سے متعلق یہی مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ  امریکا نے ثالثوں کے ذریعے ایرانی وفد سے طویل بالواسطہ مذاکرات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالث دن بھر دونوں فریقوں کے پاس آتے جاتے رہے، ایک دور کامیابی سے مکمل  ہوا ہے جس کے تعمیری ثابت ہونے کی امید ہے۔

    رائٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا سے مزید رپورٹ کیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف کے ‘پر زور اصرار پر’ عباس عراقچی نے ان سے ملاقات کی اور انہیں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، معاشی پابندیاں ہٹانے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے کی شرائط کے بارے آگاہ کیا۔

    ایرانی حکام کے مطابق تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے امریکی فوجی دباؤ کم کرنا اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ضروری ہوگا۔

    اس سے قبل ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے تیار ہیں

    دوسری جانب ٹرمپ نے اسی روز کہا کہ انہیں ایران کے ساتھ معاہدے یا جنگ جاری رکھنے کے حوالے سے ’ایک بڑا فیصلہ‘ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کو دوبارہ تعمیر کا موقع دینے والے معاہدے یا اسلامی جمہوریہ کو ’تباہ‘ کرنے کے درمیان فیصلہ کریں گے۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ تقریباً 7 ماہ سے جاری ہے۔ مذاکرات کی تازہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے جس سے توانائی کی عالمی منڈیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں، تاہم دونوں صدور کے درمیان براہ راست ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

  • TUE SEP 15 2026 | 01:45 PM

    ایرانی وزیر خارجہ کل چین کادورہ کریں گے، چینی وزارت خارجہ

    چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کل بروز بدھ چین کا دورہ کریں گے۔ اس بات کا اعلان چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کیا ہے۔ Minister of Foreign Affairs of Iran Seyyed Abbas Araghchi will visit China on September 16. Member of the
    ایرانی وزیر خارجہ کل چین کادورہ کریں گے، چینی وزارت خارجہ

    چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کل بروز بدھ چین کا دورہ کریں گے۔

    اس بات کا اعلان چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی چینی وزیرخارجہ اور چینی کمنیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے ممبر وانگ ای سےملاقات کریں گے۔

    وانگ ای نے آخری بار رواں سال مئی میں بیجنگ میں عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل ہوئی تھی۔

    بدھ کو ہونے والی ملاقات 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد چینی دارالحکومت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری بالمشافہ ملاقات ہوگی۔

    وانگ ای اور عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس میں بھی شرکت کی تھی، جہاں دونوں رہنماؤں کو مختصر گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

    امریکا اور اسرائیل نے فروری میں ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جن میں سرکاری عمارتوں، فوجی تنصیبات، میزائل انفرااسٹرکچر اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نے جواباً اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

    اس کے بعد یہ تنازع خطے کے دیگر حصوں تک بھی پھیل گیا جبکہ جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں۔

     

  • MON SEP 14 2026 | 11:33 PM

    آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مسلسل جاری ہے، امریکی صدر

    امریکا بڑی تعداد میں جدید ترین ہتھیار تیار کر رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
    آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مسلسل جاری ہے، امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مسلسل جاری ہے جبکہ عالمی ممالک کو بحران ختم ہونے پر امریکا کو ہرجانہ اور اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا بڑی تعداد میں جدید ترین ہتھیار تیار کر رہا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور دیگر عالمی اڈوں پر امریکی افواج کو جدید اسلحے کی فراہمی جاری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کے تمام دفاعی کارخانے 24 گھنٹے فعال ہیں اور 4 سے 5 نئے ملٹری پلانٹس کی تعمیر جاری ہے۔ پیٹریاٹ، تھاڈ اور ٹوماہاکس جیسے جدید میزائل سسٹمز کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس اعلیٰ معیار کے میزائل اور دفاعی سسٹمز کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مسلسل جاری ہے۔ جبکہ عالمی ممالک کو بحران ختم ہونے پر امریکا کو ہرجانہ اور اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔ امریکا نے ہمیشہ اپنے فائدے سے زیادہ دوسروں کی سلامتی کے لیے کام کیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دہائیوں سے عالمی توانائی اور سمندری راستوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا میں مہنگائی کا ذمہ دار میں نہیں بلکہ جو بائیڈن انتظامیہ ہے، کیونکہ بائیڈن کے دور حکومت میں ایندھن کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی زیادہ تھیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات کے باعث ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا گیا، اب امریکا میں ضروری اشیا کی قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ ملٹری تنازع ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔

  • MON SEP 14 2026 | 10:17 AM

    ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    اجلاس تہران اور مسقط کے مشترکہ فیصلے کے تحت خطے کے بعض ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا، ایرانی وزارت خارجہ
    ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا ارنا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار محمد علی بیک کا کہنا ہے کہ اجلاس تہران اور مسقط کے مشترکہ فیصلے کے تحت خطے کے بعض ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔

    ایرانی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ اجلاس کے انعقاد کے مناسب وقت کے حوالے سے ضروری انتظامات اور رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ایران، عمان کے ساتھ قریبی مشاورت کر رہا ہے۔

    یہ اجلاس عمان اور ایران کی اس کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی فریم ورک کو یقینی بنانا تھا، جو عالمی تیل برآمدات کی اہم شاہراہ ہے۔ اجلاس میں عراق اور دیگر خلیجی ریاستوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ خلیجی ممالک ایران سے ملاقات کریں تو انہیں اعتراض نہیں، یہ خلیجی ممالک کا اپنا فیصلہ ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جنگ رواں سال ختم ہو جائے گی، ممکن ہے ایران جنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔

    قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کو پیر کے روز عمان میں اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا ہے، جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان معاملات میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اجلاس ملتوی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔


    عمان کے وزیر خارجہ نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ہم ایسے مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں جو ہمارے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کو فروغ دے۔

    بدر البوسعیدی نے ایکس پر اپنے پیغام کے ساتھ بحرین، ایران، عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچموں کی تصویر بھی شیئر کی۔

  • SUN SEP 13 2026 | 08:50 PM

    ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، نہ کرنے دیں گے، ٹرمپ

    ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، پیٹرول کی قیمت تیزی سے نیچے آئے گی، امریکی صدر
    ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، نہ کرنے دیں گے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ رواں سال ختم ہوجائے گی اور ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ کا خاتمہ ہوگا، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔

    رائٹرز کے مطابق آئرلینڈ میں آئرش اوپن گالف چیمپئن شپ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ملک کی معیشت ترقی کررہی ہے اور ایران کا معاملہ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد یا ممکنہ طور پر اس سے پہلے ختم ہوجائے گا۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ “پٹرول کی قیمت چٹان کی طرح نیچے آئے گی”۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسے جوہری ہتھیار بنانے دیے جائیں گے۔

    ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بہت زیادہ خواہش مند ہے اور مسلسل رابطے کررہا ہے تاہم وہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جو امریکا کے مفاد میں نہ ہو۔

    خلیجی ممالک کی جانب سے پیر کو ایران کے ساتھ اجلاس کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، یہ خلیجی ممالک کا معاملہ ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اگر وہ خوش رہ سکتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے، اسی طرح اسرائیل اور دیگر متعلقہ ممالک بھی مطمئن ہوں تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔

    تیل کی قیمتوں پر ایران جنگ کے اثرات

    امریکی صدر کا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق 10 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 6.34 فیصد اضافے کے بعد 107.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 6.69 فیصد اضافے کے بعد 102.48 ڈالر فی بیرل تک گئی۔

    11 ستمبر کو قیمتوں میں کچھ کمی ضرور آئی تاہم برینٹ اب بھی 104.61 ڈالر فی بیرل پر رہا اور ہفتہ وار بنیاد پر قیمت میں 8 فیصد سے زیادہ اضافے کی جانب گامزن تھا۔

    رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں خلل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں رسک پریمیم بڑھا دیا ہے۔

    ایران اور خلیجی ممالک کا عمان میں اجلاس

    دوسری جانب ایران اور خلیجی ممالک کے نمائندوں کا اجلاس پیر کو عمان میں متوقع ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عبوری انتظام پر بات ہوگی۔

    ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق ایک مفاہمت کے بعد خلیجی ممالک کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جارہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اجلاس کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان بہتر تفہیم پیدا کرنا اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق پیر کو مسقط میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ ایک مشترکہ ایران عمان بحری راستے سے متعلق معاہدے پر دستخط کرسکتے ہیں اور اس معاہدے سے متعلق عالمی بحری تنظیم کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔

    تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ طے پانے والا انتظام آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے مترادف نہیں ہے۔

    آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں اور درآمدی ممالک کے اخراجات پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

    یوں ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیش گوئی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی یا معاہدہ کس حد تک تیل کی عالمی سپلائی اور آبنائے ہرمز سے بحری تجارت کو معمول پر لانے میں کامیاب ہوتا ہے۔

  • SUN SEP 13 2026 | 08:59 AM

    ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کو ثالثوں کے ذریعے 7 شرائط بتادیں

    ایران ،عمان معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے، حکام
    ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کو ثالثوں کے ذریعے 7 شرائط بتادیں

    ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کو ثالثوں کے ذریعے 7 شرائط بتا دیں اور واضح کیا ہے کہ یہ شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ شرائط کیا ہیں؟ فی الحال ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

    تہران کا کہنا ہے کہ ایران ،عمان معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے،مفاہمت کا جلد خلیج فارس کے ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں اعلان کیا جائے گا۔

    آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مکمل انحصار واشنگٹن کے اقدامات پر ہے،یہ مفاہمت صرف ایران اور عمان کے درمیان ہے اور دیگر ممالک آگاہی کیلئے شریک ہوں گے۔

    ایران کے مطابق دونوں ممالک نے ہرمزسے آمد اور روانگی کے لیے نئے راستوں کی تفصیلات طے کی ہیں،خلیج فارس کی جانب آنے والا راستہ مکمل طور پر ایرانی علاقائی پانیوں میں ہوگا۔

    ہرمز سے روانگی کے راستے کا ایک حصہ بھی ایرانی علاقائی پانیوں میں ہوگا،اس راستے سے آمدورفت ایرانی ضوابط کے تحت ہوگی،آبنائے ہرمز کے انتظام پر عمل درآمد کے بعد جنوبی راستہ بند کردیا جائے گا۔

    واضح رہے دنیا بھر کی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ بندش کی وجہ سے خلیجی ممالک متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہیں اور بین الاقوامی سطح پر توانائی کا بحران سنگین ہو رہا ہے۔

    ایرانی صدر نے بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں کیا کہا؟

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا ناکہ بندی اور جارحیت بند کر دے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔

    بھارٹی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے ناکہ بندی کا قدم اٹھایا۔ سمندری راستہ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جس پر ہماری زندگی کا مکمل انحصار ہو، امریکا اپنے اس طریقے میں بھی کامیاب نہیں ہو گا۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ پیر کے روز مسقط میں ایران، عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو گا تاکہ ان کی موجودگی میں آبنائے ہرمز میں مشترکہ راستے سے متعلق عمان اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو مطلع کیا جا سکے۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس اجلاس میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ موجود ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔

  • SAT SEP 12 2026 | 07:27 PM

    چین کی امریکا ایران جنگ میں کردار ادا کرنے کی پیشکش

    ایران اور امریکا کے درمیان جنگ نے خطے کے عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، شی جن پنگ
    چین کی امریکا ایران جنگ میں کردار ادا کرنے کی پیشکش

    بیجنگ: چین نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیجنگ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ نے خطے کے عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ یہ جنگ بین الاقوامی برادری کے مفادات میں بھی نہیں۔

    چینی صدر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اور سعودی عرب سے متعلق تمام معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ جبکہ ممکن ہے ایران سعودی عرب کی تیل پائپ لائن پر حملے میں ملوث ہو۔

    امریکی صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اپنا اچھا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اور امید ہے ایران جنگ نومبر تک ختم ہو جائے گی۔

    انہوں نے امریکی فوج کو دنیا کی سب سے بہترین فوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے۔

    حوثیوں سے متعلق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے اور حوثیوں نے امریکا سے رابطہ کرکے واضح کیا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ امریکا ان کے خلاف کارروائی کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حوثی زیادہ تر بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنے دے رہے ہیں۔ جبکہ امریکا نے غزہ اور وینزویلا میں بہت اچھا کام کیا ہے۔

  • SAT SEP 12 2026 | 05:27 PM

    ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی، ٹرمپ

    آبنائے ہرمز اور سعودی عرب سے متعلق تمام معاملات ٹھیک ہوجائیں گے، امریکی صدر کا دعویٰ
    ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی، ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں واضح کہا کہ آبنائے ہرمز اور سعودی عرب سے متعلق تمام معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ جبکہ ممکن ہے ایران سعودی عرب کی تیل پائپ لائن پر حملے میں ملوث ہو۔

    امریکی صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اپنا اچھا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اور امید ہے ایران جنگ نومبر تک ختم ہو جائے گی۔

    انہوں نے امریکی فوج کو دنیا کی سب سے بہترین فوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے۔

    حوثیوں سے متعلق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے اور حوثیوں نے امریکا سے رابطہ کرکے واضح کیا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ امریکا ان کے خلاف کارروائی کرے۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی زیادہ تر بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنے دے رہے ہیں۔ جبکہ امریکا نے غزہ اور وینزویلا میں بہت اچھا کام کیا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارتی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا ناکہ بندی اور جارحیت بند کر دے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ جبکہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے ناکہ بندی کا قدم اٹھایا۔

    انہوں نے کہا کہ سمندری راستہ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جس پر ہماری زندگی کا مکمل انحصار ہو اور امریکا اپنے اس طریقے میں بھی کامیاب نہیں ہو گا۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ پیر کو مسقط میں ایران، عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو گا تاکہ ان کی موجودگی میں آبنائے ہرمز میں مشترکہ راستے سے متعلق عمان اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو مطلع کیا جا سکے۔

  • SAT SEP 12 2026 | 02:06 PM

    امریکا ناکہ بندی اور جارحیت ختم کر دے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایرانی صدر

    پیر کو آبنائے ہرمز میں مشترکہ راستے سے متعلق عمان سے معاہدے پر دستخط کیلئے مسقط میں ایران، عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو گا
    امریکا ناکہ بندی اور جارحیت ختم کر دے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا ناکہ بندی اور جارحیت بند کر دے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔

    بھارٹی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے ناکہ بندی کا قدم اٹھایا۔ سمندری راستہ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جس پر ہماری زندگی کا مکمل انحصار ہو، امریکا اپنے اس طریقے میں بھی کامیاب نہیں ہو گا۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ پیر کے روز مسقط میں ایران، عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو گا تاکہ ان کی موجودگی میں آبنائے ہرمز میں مشترکہ راستے سے متعلق عمان اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو مطلع کیا جا سکے۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس اجلاس میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ موجود ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں نئی دہلی میں مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ  ایرانی عوام ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور کبھی دشمن کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ آج ایران بیک وقت اسرائیل، امریکا کے خلاف کامیابی سے کھڑا ہونے میں کامیاب رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل  نے ایک ہی لمحے میں اسکول کے 168 بچوں کو شہید کیا، آپ ہمیں دہشتگرد کہتے ہیں؟ آپ کا کیا جو انسانوں کو قتل کرتے ہیں۔

    مسعود پزشکیان نے امریکا او راسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ سائنسدانوں کو بمباری کا نشانہ بناتے ہیں اور اسکولوں، اسپتالوں پر حملے کرتے ہیں؟ اگر آپ میں ہمت ہے تو صرف فوجیوں اور فوجی اہلکاروں سے لڑیں۔ آپ بنیادی ڈھانچے، لوگوں کے روزگار اور ذریعہ معاش کو کیوں نشانہ بناتے ہیں؟۔

    واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان جمعے کو بھارت پہنچے تھے، جہاں وہ برکس ممالک کے ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع جاری ہے۔

ٹائم لائن
WhatsApp