لاہور ہائیکورٹ نے خلع سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بیوی کو 11 تولہ سونا یا اس کی مالیت شوہر کو بطور بدلِ خلع واپس کرنے کا حکم ختم کردیا۔
عدالت عالیہ کے جسٹس راحیل کامران نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے درمیان جاری تنازع سے متعلق مختلف درخواستوں اور سول مقدمات کا مشترکہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح نامے میں حق مہر کے طور پر درج 11 تولہ سونے کی خریداری کے لیے رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی، اس لیے شوہر اس سونے کی واپسی بطور بدلِ خلع کا حقدار نہیں۔
تاہم عدالت نے خاتون کی جانب سے 22 تولہ اور دیگر زیورات شوہر کے پاس ہونے کا دعویٰ ثابت نہ ہونے پر ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے دیگر فیصلوں کو برقرار رکھا جبکہ شوہر کی جانب سے دائر درخواستیں خارج کردیں۔
مقدمے کا پس منظر
دستاویز کے مطابق ڈاکٹر رخسانہ کوثر نے 23 دسمبر 2011 کو شاہد نذیر کے خلاف فیملی کورٹ میں نکاح ختم کرنے، اپنے اور نابالغ بیٹے روہان شاہد کے نان نفقے، جہیز کے سامان اور زچگی کے اخراجات کی وصولی کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
خاتون کا مؤقف تھا کہ شادی سے قبل ہونے والی بات چیت میں شوہر اور اس کے خاندان نے رہائشی مکان اور 11 تولہ سونا حق مہر میں دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم ان کے پاس مطلوبہ مالی وسائل موجود نہیں تھے۔ خاتون کے مطابق شوہر اور اس کے خاندان کی درخواست پر اس کے والدین نے مکان خریدنے اور 11 تولہ سونا فراہم کرنے کے لیے رقم دی، تاہم دونوں چیزیں نکاح نامے میں حق مہر کے طور پر درج کردی گئیں۔
خاتون نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اس کے والدین نے جہیز میں 22 تولہ سونا بھی دیا تھا۔ شوہر کی جانب سے مبینہ غفلت، نان نفقہ نہ دینے اور ناروا سلوک کے باعث وہ نابالغ بیٹے کے ہمراہ سسرال چھوڑ کر والدین کے گھر چلی گئی۔
شوہر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مکان اس نے اپنے وسائل سے خریدا تھا جبکہ 11 تولہ سونا بھی اس نے فراہم کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بیوی گھر چھوڑتے وقت تمام سونا اپنے ساتھ لے گئی تھی۔
فیملی کورٹ اور اپیل کا فیصلہ
مقدمے کے دوران فیملی کورٹ نے 28 اپریل 2012 کو فریقین کے درمیان نکاح خلع کے ذریعے ختم کردیا اور قرار دیا کہ خاتون کو حاصل ہونے والا حق مہر بدلِ خلع کے طور پر واپس کرنا ہوگا، تاہم دیگر معاملات پر کارروائی جاری رکھی گئی۔
بعد ازاں 31 اکتوبر 2018 کو فیملی کورٹ نے جزوی طور پر خاتون کے حق میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے عدت کے عرصے کا نان نفقہ، نابالغ بیٹے کے لیے نان نفقہ اور جہیز کے سامان کی واپسی کا حکم دیا، تاہم سونے کے زیورات کی واپسی کا دعویٰ مسترد کردیا۔
فیملی کورٹ نے خاتون کو نکاح نامے میں درج 11 تولہ سونا یا اس کی مالیت شوہر کو بطور بدلِ خلع واپس کرنے کا حکم دیا، جبکہ مکان شوہر کو واپس کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا کیونکہ وہ یہ ثابت نہیں کرسکا تھا کہ مکان کی رقم اس نے ادا کی تھی۔
دونوں فریقین نے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کیں۔ 20 فروری 2020 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے دونوں اپیلیں بڑی حد تک مسترد کردیں، تاہم نابالغ بچے کے نان نفقے میں سالانہ اضافے کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردی گئی۔
مکان سے متعلق تنازع
عدالتی فیصلے کے مطابق مکان کا تنازع بعد میں سول عدالت تک بھی پہنچا۔ خاتون نے مکان اپنے والد فضل حسین عاصم کے حق میں تمليك (اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کسی کے نام کردینا) کے ذریعے منتقل کردیا تھا۔
شوہر نے تمليك کو چیلنج کرتے ہوئے مکان کی منتقلی منسوخ کرنے کا دعویٰ دائر کیا جبکہ خاتون کے والد نے مکان کے قبضے اور استعمال کے منافع کی وصولی کے لیے الگ مقدمہ دائر کیا۔ دونوں مقدمات کو مشترکہ طور پر چلایا گیا۔
بعد ازاں شوہر کی جانب سے تمليك منسوخ کرنے کا دعویٰ مسترد کردیا گیا جبکہ خاتون کے والد کا مکان کے قبضے سے متعلق دعویٰ منظور کرتے ہوئے شوہر کو مکان کا قبضہ دینے کا حکم دیا گیا۔ ان فیصلوں کے خلاف بھی مقدمات لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت آئے۔
لاہور ہائیکورٹ کی آبزرویشن
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مکان کی خریداری کے حوالے سے ریکارڈ سے ایک مربوط مالی سلسلہ ثابت ہوتا ہے جس کے مطابق خاتون کے والد نے بیرون ملک موجود اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹ کے ذریعے رقم کا انتظام کیا، رقم پاکستانی کرنسی میں تبدیل ہوئی اور مجاز نمائندے کے ذریعے ڈیمانڈ ڈرافٹ حاصل کرکے شوہر کے بھائی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی، جہاں سے مکان کی قیمت ادا کی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ شوہر مکان کی خریداری کے لیے اپنی جانب سے رقم فراہم کرنے کے دعوے کو دستاویزی یا قابل اعتماد شواہد سے ثابت نہیں کرسکا۔
عدالت کے مطابق چونکہ مکان خاتون کے نام قانونی طور پر منتقل اور رجسٹرڈ تھا، اس لیے اسے اپنے والد کے حق میں منتقل کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں تھی۔ عدالت نے یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ قبضہ منتقل نہ ہونے کی وجہ سے تمليك غیر مؤثر ہوگئی۔
11 تولہ سونے پر اہم فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ 11 تولہ سونا نکاح نامے میں حق مہر کے طور پر درج تھا اور یہ سونا خاتون کو دیا بھی گیا تھا، تاہم اصل سوال یہ تھا کہ اس کی خریداری کے لیے رقم کس نے فراہم کی۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ خاتون اور اس کے گواہوں کے بیانات میں تسلسل موجود تھا جبکہ شوہر اپنی مالی حیثیت اور سونے کی خریداری کے لیے رقم کے ذریعے کو قابل اعتماد شواہد سے ثابت نہیں کرسکا۔
عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ خاتون کے والد سے جرح کے دوران شوہر کے وکیل کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ والد(سسر) نے شوہر(داماد) کو رقم بطور قرض دی تھی۔ عدالت کے مطابق یہ بات خاتون کے اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ سونے کی خریداری کے لیے رقم اس کے والد نے فراہم کی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے 11 تولہ سونے سے متعلق شواہد کا مجموعی جائزہ نہیں لیا، اس لیے ان کے فیصلوں کو اس حد تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔
زیورات شوہر کے پاس ہونے کا دعویٰ ثابت نہ ہوسکا
عدالت نے خاتون کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کیا کہ 11 تولہ سمیت مجموعی طور پر 22 تولہ سونا شوہر کے پاس رہ گیا تھا۔
عدالت کے مطابق خاتون کا مؤقف تھا کہ وہ آخری مرتبہ سسرال سے صرف پہنے ہوئے کپڑوں میں نکلی، تاہم ریکارڈ میں اس حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے۔ مزید برآں خاتون کے والد نے اپنی بیٹی کی شادی میں زیورات پہننے کی تصدیق کی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خاتون سے شادی کی ویڈیو پیش کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ویڈیو پیش نہیں کی۔ عدالت کے مطابق اس صورت حال میں فیملی کورٹ کی جانب سے منفی تاثر اخذ کرنا درست تھا۔
حتمی فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ خاتون کو 11 تولہ سونا یا اس کی مالیت شوہر کو بطور بدلِ خلع واپس کرنے کا حکم ختم کیا جاتا ہے اور شوہر اس سونے کی واپسی کا حقدار نہیں۔
عدالت نے خاتون کی درخواست نمبر 21804/2020 جزوی طور پر منظور کرلی جبکہ شوہر کی درخواست نمبر 26320/2020 خارج کردی۔
مکان سے متعلق درخواست نمبر 23651/2026 اور سول ریویژن نمبر 23652/2026 بھی خارج کردی گئیں اور ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا گیا۔



