لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت 18 سال سے کم عمر فرد کی شادی غیر قانونی ہے۔
عدالت کے سامنے انکشاف ہوا کہ ہینا اسلم کی شادی کے وقت عمر تقریباً 15 سال تھی، عدالت نے کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد کی بنیاد پر پولیس کو قانون کے مطابق تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے جسٹس آف پیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا اور پولیس کو ہدایت کی کہ نئے شواہد کی روشنی میں اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا قابلِ سزا جرم کا ارتکاب ہوا ہے یا نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار پہلے اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرا چکا تھا، تاہم نئے حقائق سامنے آنے کی صورت میں دوبارہ ایف آئی آر کے اندراج کی قانونی گنجائش موجود ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ہینا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے حوالے کرنے کا بھی حکم دیا اور متعلقہ اداروں کو بچی کی فوری حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو مقدم رکھنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی مرضی اہم ہے، لیکن کم عمری کے باعث اس کی رائے کو خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا۔ کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا بنیادی مقصد بچوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
عدالت نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بچی کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔


