امریکی صدر ٹرمپ نے ویک اینڈ پر ایران پر بڑا حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کیا، حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہو گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جلد معاہدہ طے پا گیا تو حملہ نہیں ہو گا۔ اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی کا اختیار ہمارے پاس موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دیدیا ، امریکی اخبار کا دعویٰ
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا خاتمہ شامل ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے اردن پر حملے کے جواب میں شدید حملہ کریں گے۔ ایران کے حامی جنگجوؤں کے خلاف بھی کارروائیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
کابینہ اجلاس کےدوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ تاہم ایران کے پاس اب بھی کچھ ڈرونز اور میزائل صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں اور اس تنازع میں امریکا کو برتری حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ ڈرون صلاحیت بھی بہت کم رہ گئی ہے۔ ایران کے پاس چند ماہ پہلے کے مقابلے میں بہت کم میزائل موجود ہیں۔ ایران کے 159 جہاز سمندر کی تہہ میں ہیں جبکہ تقریباً 200 جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔
