ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف انسدادِ دہشتگردی اور سیکیورٹی امور کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج میں بلوچستان کی صورتحال پر خاص توجہ دلاؤں گا،خفیہ اطلاعات پر رواں سال اب تک 40ہزار 348 آپریشنزکیے گئے،خیبر پختونخوا میں 7177 انٹیلی بیسڈ آپریشن کیے گئے۔بلوچستان میں 31 ہزار 80 آپریشن کیے گئے۔رواں سال اب تک مجموعی طور پر 3 ہزار 145 دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اب تک رواں سال کارروائیوں میں 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک کیے گئے،تقریباً 10 دہشت گرد روزانہ کی بنیاد پر ہلاک کیے گئے،رواں سال اب تک 819 شہادتیں ہوئیں۔روزانہ کی بنیاد پر 4 کے تناسب سے شہادتیں ہوئیں۔
پاک فوج کے 303 جوان شہید ہوئے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اب تک 394 جوان شہید ہوئے ،رواں سال 322 سویلین شہید ہوئے،رواں سال اب تک 28 خود کش دھماکوں کے واقعات پیش آئے،گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی خود کش حملہ آور افغانی تھے۔ٹانک اور کراچی سمیت تمام واقعات میں افغانی ملوث تھے۔پاکستان کے دیگر علاقوں میں صرف 2 ہزار 91 آپریشن کیے گئے۔
پاک فوج کی جوابی کارروائیوں میں افغان نیشنیلیٹی اور ان سے متعلقہ اافراد ملوث تھے،گزشتہ 5 سالوں کے دوران انسداد دہشتگردی کیلئیے آپریشن کیے گئے،بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے۔آئین اور قانون کے مطابق تمام معاملات کو دیکھنا ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ آئین میں واضح ہے کہ ہم سب کی کچھ بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ان ذمہ داریوں کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ریاست کے ساتھ وفا دار رہیں۔ہمیں ملک کے ساتھ وفا دار اور آئین کی پاسداری کرنی چاہئے۔ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔فرائض کے بعد ہمیں حقوق کا تقاضا کر سکتے ہیں۔
فیلڈ مارشل نے چند روز پہلے بلوچستان میں ورکشاپ میں واضح الفاظ میں کہا ہم حقوق کی تحریکوں کی بات کرتے ہیں،فیلڈ مارشل نے کہا ہم حقوق کی بات تو کرتے ہیں لیکن فرائض کی بات نہیں کرتے۔ہر شہری کے فرائض سے متعلق بھی ہمیں تحریک چلانی چاہیے،کیا یہ ہر شہری کا فرض نہیں ہے کہ ہماری پہلی وآخری شناخت پاکستانی ہونی چاہیے،ہماری شناخت ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ہمیں ریاست پاکستان کی بنیادی اور سینٹرل پوزیشن کو سمجھنا ہوگا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ریاست ہے تو سیاست ہے ،ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو نام ہے،یہ سب بنیادی فرائض ہیں،سوچیں کہ کیا ہم ان فرائض کی پاسداری کر رہے ہیں۔
آگے میں دو چیزوں سے متعلق بات کروں گا جس سے فرائض ، حقوق سمیت تمام چیزیں جنم لیتی ہیں،آج ہم نے بلوچستان کے بنیادی مسئلہ تک پہنچنا یے،بلوچستان کا بنیادی مسئلہ سرداری نظام ہے،یہ وہ قبییلہ یا معاشرے کا حصہ ہے جو سمجھتا ہے میرے کوئی فرائض نہیں، صرف حقوق ہیں،یہ قبیلہ سوچتا ہے کہ یہ جو سٹیٹس کو ہے وہ ہر حالت میں بحال رہنا چاہئے۔سٹیٹس کو یہ ہے کہ کوئی عام آدمی یا غریئب کا بچہ پڑھے نہ ۔وہ چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ ترقی نہ کرے۔وہ چاہتے ہیں غریب کا بچہ ڈاکٹر نہ بنے، فوج میں نہ جائے، انجینئر نہ بنے۔وہ چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ میرا غلام رہے۔وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے صرف حقوق ہیں،فرائض نہیں ہیں۔ایسے لوگ ہی بلوچستان میں دہشتگردی کے بنیادی متحرکات ہیں۔
بلوچستان کا دوسرا مسئلہ سرداری نظام کی خوش آمدانہ پالیسی ہے،وہ سوچتے ہیں کہ ہم دہشتگردی کرائیں گے، ہم دہشتگردی کے بارے مین بات کریں گے،ہم یہ کہیں گے کہ بلوچستان تو ہاتھ سے نکل رہا ہے ہائے ہم سے بات کریں ہمیں اپیز کریں جیسے پہلے کرتے آ رہے تھے۔
لیکن کبھی بھی نہیں کہا کہ ہم ریاست کے اصل سٹیک ہولڈر سے بات کریں گے،ہم اصل اسٹیک ہولڈرز سے بات کریں گے جو اصل میں بلوچستان کے عوام ہیں،ان کا مسئلہ یہ ہی ہے کہ ہمیں کیوں نہیں اپیز کیا جا رہا،تم لوگ صرف اپنے اور اپنی خانان کے لیے اسٹیک پولڈر ہو،وہ کہتے ہیں ہمارے آگے آ کر پیروں کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا جا رہا۔ان کی تو عادت ہے کہ جو لیوی فورس ہے وہ میری ذاتی فورس ہے،وہ کہتے ہیں اس میں میرا حصہ ہے، 400 بندہ میرا، 500 بندہ میرا، ہزار بندہ میرا۔وہ کہتے ہیں آدھے بندوں کی تنخواہ میرے ہاتھ باقی جو بندہ ہے وہ میرے اور میرے خاندان کی حفاظت کے لیے گارڈ ڈیوٹی کرے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان کو تو عادت ہے کہ سو کالڈ کاروبار کے نام پر اسمگلنگ کرنی ہے،وہ کہتے ہیں ہم نے نارکو لانی ہے ، ہم نے ڈیزل لانا ہے، ہم نے اس کو 6/7 گنا قیمت پر بیچنا ہے،دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم ان کو ختم کر دیں گے ،دہشتگردوں کو سمجھ آ گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی،وہ کہتے ہیں اگر تم یہ روکو گے تو میں دہشتگردی کراؤں گا،وہ کہتے ہیں پھر نعرے ماروں گا کہ یہ حالات تمہارے قابو میں نہیں ہیں ،وہ کہتے ہیں بلوچستان میں یہ ہو گیا وہ ہو گیا،آؤ مجھ سے بات کرو۔
وہ کہتے ہیں یہ جو ہزار ارب سے زیادہ بجٹ ملتا ہے مجھے اس میں سے حصہ دو،نو مور۔۔۔۔ اب اور نہیں ، تم سٹیک ہولڈر نہیں ہو،تمام تر پیسہ بلوچستان کے عوام کو جائے گا۔
بلوچستان کا تیسرا اہم مسئلہ بیرونی قوتوں کا اثر و رسوخ (ایسٹرنل پاور پلے)ہے،بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں،افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کو سپورٹ کر رہی ہے،بلوچستان کا مسئلہ وہاں کے سرار اور ایلیٹ طبقہ ہے،کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہیں ، بالکل نہیں ،ہارڈ سٹیٹ وہ ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہو،بلوچستان کی پولیس فورس نے بہادری اور دلیری سے مقابلہ کیا،27 اکتوبر 2025 کچی میں حملہ ہوتا ہے، 40 سے 45 دہشتگرد حملہ کرتے ہیں،بلوچستان پولیس سامنے کھڑی ہوئی اور بہادری سے مقابلہ کیا۔بلوچستان پولیس کے جوانوں نے جواں مردی سے ان کا مقابلہ کیا اور بلاجھجک کیا۔
جنوری میں کوئٹہ میں حملہ ہوتا ہے، ڈی ایس پی فیصل رشید ، انسپکٹر زبیر، اے ایس آئی محمود الرحمان ، کانسٹیبل ارشد فہیم نے جام شہادت نوش کیا،شہدا نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے سینے پر گولیاں کھا کر دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنایا۔
’’بلوچستان میں کونسی احساس محرومی ہے‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں محرومی پر سوال اٹھاتے ہوئے اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں شہریوں کو تو سہولتیں بہم میسر ہیں۔
انفراسرکچر ہے، ہسپتال، سڑکیں، تفریح کے سامان ہیں، انٹرنیشل ایئرپورٹ ہے۔ آبادی کے تناسب سے سہولتیں کافی ہیں، پاکستان کے کسی اور شہر میں ساڑھے تین لاکھ کی آبادی کے لیے ایسا ہو تو بتائیں۔ یہی صورتحال تربت میں ہے۔ ساری سہولتیں موجود ہیں اور آبادی کے حساب سے زیادہ ہے۔
پنجاب کے کسی شہر میں اتنی سہولتیں ہوں تو بتائیں، چھوڑیں کے پی، چھوڑیں کسی اور صوبے کو۔ اور تو اور پنجاب میں فی کس آمدنی کم ہے بلوچستان میں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سردار اور اشرافیہ کے فوائد دہشتگردی سے جڑے ہیں، اسی لیے وہ نوجوانوں کو ترقی نہیں کرنے دیتے، پڑھنے اور آگے نہیں پڑھنے دیتے، اگر وہ ترقی کریں گے تو سرداروں کی فوجیں کون بھرے گا؟
انہوں نے کہا کہ “آر ایس ایس اور ہیبت اللہ اینڈ پارٹی جہاں فوج کے خلاف جاتے ہیں، وہاں ان کو جوتے پڑتے ہیں”۔ بلوچستان میں 2084 مارے جا چکے ہیں۔
بلوچستان مشکل ترین علاقہ ہے، اس میں ریگستان، پہاڑ، اور بہت بڑا رقبہ ہے۔ اے سی لگے کمرے میں بیٹھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان میں حالات کنٹرول سے باہر ہیں۔ ایف سی کے جوان، اور پولیس اہلکار جس طرح سے ان دہشت گرد کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، وہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا، اور یہ قابل تحسین ہے۔
’’ڈویلپمنٹ پراجیکٹس پر حملے‘‘
بلوچستان میں ترقی کے مخالف دہشتگرد آتے ہیں، ٹرین جیسے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بناتے ہیں، اور بھاگ جاتے ہیں۔
ڈویپلیمنٹ پراجیکٹس کو ٹارگٹ کر کے پھر کہتے ہیں کہ “یہاں ترقی نہیں ہو رہی، سکول، کالج، اور روڈ نہیں بن رہی، محرومی کا بیانیہ بناؤ کہ ہمارے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔
فتنہ الہندوستان اور خوارج کے بلوچستان میں پولیس کے تھانوں پر کیے گئے حملوں کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں رومرہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ پولیس اور ایف سی والے اکٹھے مل کر حملوں کو ناکام بناتے ہیں اور دہشتگروں کو ماربھاتے ہیں۔
“ہم ان پولیس والوں کی قربانیوں کا اعتراف کیوں نہیں کرتے؟ خراج تحسین کیوں پیش نہیں کرتے؟ کیونکہ ایک ویڈیو آتی ہے” جس میں حملہ آور اپنے آپ کو آتے اور جاتے دکھاتے ہیں، یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر چلتی ہے اور بلوچستان کے یہ دہشت گرد بلوچستان میں بچیوں کو ہنی ٹریپ کرکہ اغوا کرتے ہیں، بلیک میل کرتے ہیں، کہ اب دہشت گردی کرو ورنہ تمارے گھر والوں کو بدنام کر دیں گے”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ایف سی اور انسداد دہشتگردی فورس نے 30 مارچ جھل مگسی پولیس اسٹیشن کوٹلہ پر حملہ کو ناکام بنایا،30 مارچ کو قلات اور خالق آباد میں پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حملے کو پولیس اور ایف سی نے ناکام بنایا،فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج میں کوئی فرق نہیں،پولیس اسٹیشن ڈھاڈر میں 24 اپریل کو کثیر تعداد میں دہشتگرد آتے ہیں، پولیس، ایف سی اور اے ٹی ایف نے دہشتگردوں کو ہلاک کر کے حملہ ناکام بنایا۔کانسٹیبل صوبہ خان شہادت کے رتبے پر فائز ہوتے ہیں۔
8 جون کو خضدار میں پولیس اسٹیشن پر بڑی طرز کا حملہ ہوتا ہے ،بڑے اسکیل کے حملے کو پولیس اور ایف سی مل کر دہشتگردوں کو پسپا کرتے ہیں۔
بلوچستان میں دہشتگردی کنٹرول کرنے کے لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ٹیکنکل سرویلنس بھی اپ گریڈ کی جا رہی ہے۔ سائبر اور فضائی استعداد کار بڑھائی جار ہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھارتی پراپیگنڈا کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے جار ہے ہیں اور اسپیلائزڈ ٹرینینگ سینٹر بنائے جار ہے ہیں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایمپاور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے سالانہ تقریباً 11 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی کی مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔
“لوگ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں مائنز اور منرلز ہیں، بالکل ہیں لیکن اس کا سب سے اہم وسائل اس کا ہومن ریسورس ہے۔” اسی لیے بلوچستان کا سردار چاہتا ہے کہ یہ نوجوان تعلیم یافتہ نہ ہو، تاکہ وہ اپنے مقاصد کے لیے ان کو استعمال کرتا رہے۔ “سرداروں کی فوجیں بحال رہیں، نوجوان ترقی کریں گے تو یہ کیسے ہوگا؟”
“ہمیں اپنے لوگوں کے ساتھ خود رابطہ رکھنا ہوگا، اس کے لیے ہمیں سرداروں اور دہشتگرد عناصر کی ضرورت نہیں۔”
’’خواتین کو بلیک میل کرکے دہشتگردی پر مجبور کرتے ہیں‘‘
یہ دیشت گرد بلوچستان میں بچیوں کو ہنی ٹریپ کرکہ اغوا کرتے ہیں، بلیک میل کرتے ہیں، کہ اب دہشت گردی کرو ورنہ تمارے گھر والوں کو بدنام کر دیں گے۔
“جنرل احمد شریف نے ماہل، عدیلہ اور دیگر متعدد متاثرہ خواتین کی ویڈیوز بھی چلائی جس میں وہ فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں ٹریپ ہونے کی تفصیل بتاتی ہیں۔ ایک شادی شدہ خاتون کو دھوکے سے ورغلا کر لائے اور پھر اس سے ویڈیوز بنوائیں، دہشتگرد کاروئیاں کرائیں، ان کے والد نے درخواست کی کہ اس موبائل کو ختم کریں جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے بچیوں کو ورغلایا جاتا ہے۔ “یہ پراپیگنڈا کرنے والے 54 فیصد اکاؤنٹس بھارت سے ہیں۔”
’’ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض، فرائض کی ادائیگی کے بعد ہی حقوق کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور فرائض کی ادائیگی کے بعد ہی حقوق کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کی تحریکوں کے ساتھ ساتھ شہری فرائض سے متعلق بھی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، کیونکہ ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ریاست پاکستان کی بنیادی اور مرکزی حیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو نام ہے” اور ہر شہری کو یہ سوچنا چاہیے کہ آیا وہ اپنے قومی فرائض کی پاسداری کر رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے، ورنہ سکیورٹی فورسز انہیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں اور بعض ایلیٹ و سردار نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ معرکۂ حق میں دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد بلوچستان کو نشانہ بنایا گیا، اور اس تناظر میں قومی اتحاد، ریاست سے وفاداری اور شہری ذمہ داریوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
’’بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے مخصوص عناصر، غریب کو ترقی سے محروم رکھنے کی سازش ہو رہی ہے‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے بنیادی محرکات مخصوص عناصر اور سرداری نظام سے جڑی خوشامدانہ پالیسیوں میں پوشیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طبقہ ہر حال میں “اسٹیٹس کو” برقرار رکھنا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر، انجینئر یا فوجی بنے، بلکہ وہ اسے ہمیشہ پسماندہ رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو اب یہ سمجھ آ چکی ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل بھی چند روز قبل اس حوالے سے واضح مؤقف دے چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے، جبکہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا دہشت گردی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاروبار کی آڑ میں منشیات اور ڈیزل کی اسمگلنگ کی جاتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہی صوبے کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں اور لاپتا افراد سے متعلق پروپیگنڈا بھی ناکام ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق لاپتا افراد کمیشن کو بلوچستان سے 2,933 کیسز موصول ہوئے، جبکہ مستونگ سمیت مختلف دہشت گردی کے واقعات میں بعض لاپتا افراد ملوث پائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا رقبہ 3 لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلومیٹر، آبادی تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ ہے اور صوبہ سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔ ان کا سوال تھا کہ کیا ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کسی نے بولان اور کیچ جیسے علاقوں کے زمینی حقائق پر بات کی ہے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے سرپرست بھارت میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں پولیس اور لیویز پر 105 حملے ہوئے، جن میں 178 افراد شہید، 55 اغوا اور 24 پل تباہ کیے گئے۔
نوٹ: مزید تفصیل شامل کی جارہی ہے
