وزیر دفاع خواجہ آصف نے سسٹم کی تبدیلی کے معاملے پر وزیر داخلہ کو مشورہ دیا ہے کہ محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے سسٹم کی کسمپرسی پراپنے خیالات کا اظہار کیا ،میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ہوں ،سسٹم کا ارتقائی عمل دہائیوں سے ذاتی مفادات کے تابع ہے۔اس سسٹم کو آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔
نئے صوبوں کی بات غیر آئینی ہے، وفاقی وزیر داخلہ عہدہ چھوڑ دیں، نثار کھوڑو
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بنیادی تبدیلی کا اصل فورم پارلیمنٹ یا کابینہ ہے ،محسن نقوی کابینہ کے رکن ہیں ،اس کو کابینہ میں بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔اس سے ادارے مضبوط ہوں گے اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔
نقوی صاحب پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاس کبھی کبھار ہی اٹینڈ کرتے ہیں،محسن نقوی ساڑھے 3 سال سے طاقتور عہدوں پر فائز ہیں،چاہتے تو نظام میں تبدیلی پر پیشرفت کرسکتے تھے،صرف تاجر برادری ہی نہیں پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کے دوران اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ موجودہ طرز حکمرانی بڑھتی ہوئی آبادی، پیچیدہ انتظامی معاملات اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبے کیسے بن سکتے ہیں، آئین کیا کہتا ہے؟
ان کا مؤقف تھا کہ اگر موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ برسوں میں بھی ملک کو انہی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام جیسے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ انتظامی اختیارات عوام کے مزید قریب منتقل کیے جا سکیں۔
