امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شب وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے ری شیڈول سالانہ عشائیے کی تقریب میں “Trump 2028” کی ٹوپی پہن کر ایک بار پھر صدارتی انتخاب لڑنے کے حوالے سے مذاق کیا۔
ٹرمپ نے کہا، “مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ میں امریکا کے صدر کے طور پر چوتھی مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔” پھر ہنستے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ “تین بار جیت چکے ہیں” اور اب “صدارتی انتخاب لڑنے میں کافی ماہر ہو گئے ہیں۔”
ان کے یہ ریمارکس بظاہر مذاق تھے کیونکہ امریکی آئین کی 22 ویں آئینی ترمیم کے تحت کوئی بھی صدر دو سے زیادہ منتخب مدتوں تک عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔
جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہائوس میں اہم ملاقات
ٹرمپ نے میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ بعض صحافی انہیں پسند نہیں کرتے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں 93 فیصد منفی کوریج ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جگہ ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم میں مبتلا لوگوں کا اب تک کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔
یہ عشائیہ اپریل میں ہونے والی اصل تقریب کے ملتوی ہونے کے بعد منعقد کیا گیا۔ اصل تقریب اس وقت روک دی گئی تھی جب ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کی موجودگی میں ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
فائرنگ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ سکیورٹی اور ہمارے کام سے وابستہ خطرات کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
انہوں نے ازراہ مذاق کہا کہ مؤخر شدہ عشائیہ پہلے سے بہتر ثابت ہوا، “بالکل میری صدارت کی طرح، دوسری بار ہمیشہ بہتر ہوتی ہے۔”
وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا 21 سالہ نوجوان میری لینڈ کا رہائشی تھا، امریکی میڈیا
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے 250 طیارے اور 159 کشتیاں تباہ کر دی ہیں۔ ان کے پاس اب بہت کم ڈرونز بچے ہیں، چاہے آپ کو کچھ بھی دکھایا جائے۔ایران امریکا سے بات چیت کر رہا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ ابھی تیار نہیں ہیں، ابھی وقت نہیں آیا لیکن میں بات سننے کے لیے تیار ہوں تاہم ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس موقع پر رخصت ہونے والی وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر ویجیا جیانگ نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ صحافی تشدد سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ ہم واپس آ گئے ہیں، ہمیں ڈرایا نہیں جا سکتا، اور ہم کسی پرتشدد واقعے کو فیصلہ کن بات نہیں بننے دیں گے۔
