امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقا میں خام تیل کے فزیکل کارگوز کی قیمتوں میں اس ہفتے نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جن میں بعض کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچی۔
اس اضافے کی وجہ ایران اور یوکرین کی جنگوں سے منسلک سپلائی میں رکاوٹیں ہیں، جن کے باعث خریدار فوری فراہمی کے لیے متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی کر دیں، نئی قیمتوں کا اعلان
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کے معیار ڈیٹڈ برینٹ، جسے دنیا کی 60 فیصد سے زیادہ حقیقی خام تیل کے کارگوز کی قیمت مقرر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، نے جمعرات کو ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق 105.70 ڈالر فی بیرل کی سطح چھو لی۔
یہ قیمت مئی کے آخر کے بعد سب سے بلند سطح تھی اور جون کے آغاز کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی حد سے تجاوز کر گئی۔
تیل کے بروکر تاماس وارگا کا کہنا ہے کہ سپلائی سے متعلق خدشات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ جمعرات کے روز قازقستان نے کہا کہ بحیرہ اسود میں ’’سی پی سی بلینڈ‘‘ خام تیل کے اہم ایکسپورٹ ٹرمینل کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں اس نے تیل کی پیداوار میں کمی کر دی ہے۔
ایک ذرائع کے مطابق قازقستان میں خام تیل کی پیداوار آدھی رہ گئی ہے جو تقریباً 4 لاکھ ، 60 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔
