سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب مقدمات سے متعلق دائرہ اختیار کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
سپریم کورٹ نے تمام نیب مقدمات آئینی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نیب مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں رہا،آئین اور نیب قانون کے تحت سپریم کورٹ کے پاس مقدمات سننے کا اختیار نہیں۔
ٹیکس تنازع پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
نیب کی فوجداری اپیلیں اورزیر التوا درخواستیں آئینی عدالت منتقل کی جائیں،دوران سماعت وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ کے ضمانت فیصلہ کا حوالہ دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اختیار سماعت کا نکتہ اٹھائے بغیر فیصلے کی وجوہات متعلقہ نیب ہی بتا سکتا ہے،اعتراض نہ اٹھانے کی کوتاہی کے باوجود قانون ہی اختیار سماعت طے کرتا ہے،سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل سن سکتی ہے۔
نیب کیسز کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے،یہ ممکن نہیں کہ ضمانت سپریم کورٹ اورمرکزی اپیل آئینی عدالت سنے ،فورمز کا تضاد رکھا گیا تو قانون کے بر خلاف ہوگا۔
سپریم کورٹ کا یوریا درآمد کیس میں فیصلہ، ٹی سی پی کامیاب، کمپنی کی اپیل مسترد
درخواست گزار کی ترجیح کا یا رضا مندی پر قانونی فورم ایجاد نہیں کیا جا سکتا ،سائلین کی پسند اور ترجیحات پر فورم طے نہیں کیا جاسکتا۔
پس منظر
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا،نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی،نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعتیں کیں،بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔
سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسیت کیخلاف مؤثر نظام بنانے کا حکم
درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے،درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب مرکزی اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے،اٹارنی جنرل کا موقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔
زمین کا معاوضہ صرف سرکاری ریٹ پر نہیں، مارکیٹ ویلیو بھی لازمی، سپریم کورٹ
نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی،سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
