پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دینے کا دعویٰ مسترد کردیا۔
پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم کا دو ٹوک الفاظ میں کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت،سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی مدتِ معیاد نہیں ہوتی۔
بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے، پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں،سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، دریائے سندھ کا پانی 24 کروڑ عوام کی زندگی ہے،اس کو بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جائے۔
پاکستانی قونصلر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی سرپرستی کررہاہے ،بھارت خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے،کلبھوشن یادیو سے عالمی قتل کی سازشوں تک، بھارتی دہشت گردی بے نقاب ہو چکی ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ قبول نہیں، بھارت سے چاہے جنگ ہی کیوں نہ لڑنی پڑے، بلاول
انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کی سیاست سے بھارتی مسلمان، مسیحی، دلت اور سکھوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،جنوبی ایشیا میں پائیدار امن سلامتی کونسل کی قراردادوں اور مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔
