امریکی افواج نے ایران پر مسلسل 13ویں رات بھی حملے مکمل کرلیے ہیں ۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل 13ویں رات فضائی حملے کامیابی سے مکمل کیے، حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026
سینٹکام کے مطابق یہ حملے اس لیےکیے گئے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو ایران سے لاحق خطرات کو مزید کم کیا جا سکے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت سے تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں، ٹرمپ
سینٹکام کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مغربی ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکا سنا گیا ہے۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے جنوبی شہر اہواز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ جزیرہ قشم میں بھی دھماکے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے نقصان کی ادائیگی ایران کے منجمد اثاثوں سے کی جائے گی، تمام نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گے۔
کسی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دینگے، ٹرمپ
ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سے جہازوں، ان کے کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کے نقصان کا ازالہ امریکا کے زیرِ قبضہ اور کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا۔

ٹرمپ نےکہا کہ یہ نقصانات بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، تاہم ہمارا ماننا ہے کہ یہی منصفانہ اور عادلانہ اقدام ہے، اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔
