اسلام آباد: سپریم کورٹ نے یوریا درآمد سے متعلق طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی اپیل منظور کر لی، جبکہ نجی کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 21 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے چیف جسٹس نے تحریر کیا۔
فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ٹی سی پی کی جانب سے پرفارمنس گارنٹی ضبط کرنا مکمل طور پر قانونی اقدام تھا اور سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے گارنٹی واپس کرنے کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ تجارتی معاہدوں میں شامل شرائط کا احترام ہر صورت ضروری ہے اور عدالتیں ایسے معاہدوں میں بلاجواز مداخلت نہیں کر سکتیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ پرفارمنس گارنٹی کسی فریق کو سزا دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاہدے کی بروقت اور مکمل تکمیل کی ضمانت ہوتی ہےعدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی جائے تو پرفارمنس گارنٹی ضبط کی جا سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ وقت کی پابندی معاہدے کا بنیادی جزو تھی، تاہم کمپنی کو متعدد مواقع اور مہلتیں دینے کے باوجود وہ مقررہ مدت میں یوریا کی سپلائی مکمل کرنے میں ناکام رہی۔
سپریم ایپلیٹ کورٹ کا بڑا فیصلہ، جی بی اے-17 کے 8 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم
سپریم کورٹ نے کمپنی کی جانب سے دائر 34 لاکھ 65 ہزار ڈالر ہرجانے کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کاروباری خطرات اور تجارتی فیصلوں کے نتائج دوسرے فریق پر منتقل نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت کے مطابق کمپنی کو جس مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، وہ اس کی اپنی تجارتی حکمت عملی اور کاروباری فیصلوں کا نتیجہ تھا۔
عدالت عظمیٰ نے ثالثی ایوارڈ میں بھی قانونی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی کے فیصلے قانون اور معاہدے کی شرائط کے مطابق ہونے چاہییں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ٹی سی پی نے معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، جبکہ پرفارمنس گارنٹی کی ضبطی نہ تو غیرمنصفانہ تھی اور نہ ہی غیرمتناسب۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس اصول کو بھی اجاگر کیا کہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری ملکی اور بین الاقوامی کاروباری اعتماد کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے عدالتیں معاہدے کی واضح شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گی۔
عدالت نے تمام قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد نجی کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹی سی پی کے مؤقف کو درست قرار دے دیا، جس کے ساتھ ہی یوریا درآمد سے متعلق یہ طویل قانونی تنازع اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
