بھارتی سماجی کارکن اور ماحولیاتی ماہر سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ طویل مذاکرات، مختلف شرائط پر اتفاق اور ملک میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔
معروف بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی طویل بھوک ہڑتال، وزن میں کمی، طبیعت بگڑ گئی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، انجینئر اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم رہنے والے سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ انہوں نے یہ اعلان ایک بیان میں کیا جس میں بتایا گیا کہ ان کی بھوک ہڑتال مرکزی وزرا اور لیہہ، لداخ کی ایپکس باڈی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں اختتام پذیر ہوئی۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
سونم وانگچک کے مطابق انہوں نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا، مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور لیہہ لداخ کی ایپکس باڈی کے اعلیٰ رہنماؤں کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی ایک ملاقات کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل مذاکرات اور مختلف امور پر غور و خوض کے بعد کیا گیا۔
بھارت میں سونم وانگچک طلبہ احتجاج کی سب سے نمایاں آواز کیسے بنے؟
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 65 ارکان پارلیمنٹ نے یا تو ان سے ملاقات کی یا تحریری طور پر اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

سونم وانگچک نے کہا کہ مذاکرات کے دوران کئی شرائط زیر غور آئیں، جن پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق ان شرائط اور ہونے والے اتفاق رائے کی مکمل تفصیلات وہ بہت جلد ایک علیحدہ ویڈیو پیغام میں عوام کے سامنے رکھیں گے تاکہ تمام حقائق واضح ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے میں ملک میں ممکنہ تشدد اور امن و امان کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسی صورتحال سے بچنا چاہتے تھے جس سے عوام یا کسی بھی طبقے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
طلبہ احتجاج اور سونم وانگچک بھوک ہڑتال ختم کریں، سلمان خان کی اپیل
سونم وانگچک نے اپنے حامیوں، سماجی کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر صورت پرامن رہیں اور کسی بھی قسم کے تشدد یا اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافِ رائے کا اظہار ہمیشہ جمہوری، آئینی اور پرامن انداز میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام آئندہ چند روز تک صبر سے انتظار کریں، کیونکہ وہ جلد ایک تفصیلی ویڈیو جاری کریں گے جس میں مذاکرات، طے پانے والی شرائط اور اپنے آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تمام اہم نکات سے آگاہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رہے گی اور وہ مستقبل میں بھی عوامی مفاد اور لداخ کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
