پنجاب بھر میں ہونے والی بارشوں نے تباہی مچادی،مختلف حادثات میں 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہوگئے جبکہ لاہور میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی۔
پی ڈی ایم اے نے پنجاب میں مون سون بارشوں کے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق صوبے میں بارشوں کے باعث 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے،سیلابی ریلے میں بہنے یا پھنسنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچا دی، حادثات میں 14 افراد جاں بحق، الرٹ جاری
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث پنجاب بھر میں 38 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا،اس دوران مویشیوں کی ہلاکت بھی ریکارڈ کی گئی۔
لاہورکی صورتحال
صوبائی دارالحکومت لاہور میں بارش کے بعد شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے،کیولری سے ڈیفنس روڈ کی جانب سڑک پر پانی موجود ہے ، ڈیفنس موڑ پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
سمن آباد عارف چوک کی نواحی گلیوں میں پانی کھڑا ہے،ڈیفنس کا غازی انڈر پاس پانی سے بھر گیا،ڈیفنس مین بلیوارڈ کی دونوں اطراف پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی۔
ریکارڈ کی گئی بارش
لاہور کے مختلف علاقوں میں ہلکی اور تیز بارش ہوئی ،اوسطاً 79 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ، سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ کے علاقے میں 263 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی ، تاج پورہ 156، کاہنہ 144 اور مغلپورہ میں 131 ملی میٹر بارش ہوئی۔
ملک میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کا نیا الرٹ جاری
اپر مال 116، مناواں 109 اور جوہر ٹاؤن میں 81 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ، چوک ناخدا 63، نشتر ٹاؤن 57 اور شادی پورہ میں 13 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
انتظامیہ متحرک
مون سون بارشوں کے ساتھ پنجاب حکومت نے پانی کی نکاسی کا آپریشن تیز کر دیا،ستھرا پنجاب اور واسا نے لاہور میں ایک گھنٹے سے کم وقت میں نکاسی آب کانیا ریکارڈ قائم کردیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو شاباش دی ، صورتحال کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ جاری بھی جاری ہے ،واسا کے مطابق لاہور میں 48 گھنٹوں کے دوران 343 ملی میٹر ریکارڈ بارش ہوئی۔
لاہورکی اہم شاہراہوں اور انڈر پاسز سے پانی نکال دیاگیا،مال روڈ، گلبرگ، لبرٹی چوک اور فیروز پور روڈ سے بھی پانی کونکال دیاگیا۔
بینک اسٹاپ، قینچی اسٹاپ، کریم بلاک اور سمن آباد انڈر پاس پر ٹریفک کی روانی بحال کردی گئی، واسا کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی حکمت عملی اور جدید نظام کی بدولت شہری راستوں کی بندش سے محفوظ رہے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر انتظامی افسران اور واسا عملہ فیلڈ میں متحرک ہیں۔
مریم اورنگزیب
سینئر وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بارش کے بعد نکاسی آب آپریشن کاخود جائزہ لے رہی ہیں،بارشوں کے باعث کھڑاپانی سب کےلیے مشکل کاباعث بنتاہے۔
مون سون بارشوں کے ساتھ پانی کی نکاسی کا آپریشن تیز کر دیاگیا،کاروباری برادری اورشہریوں نے نکاسی آب آپریشن پرپنجاب حکومت کی تعریف کی۔
ڈیمز میں پانی کی صورتحال
تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 3 لاکھ 19 ہزار 100 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 1 لاکھ 93 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
مختلف شہروں میں بارش ، مانسہرہ اور وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ ، مکانات اور دکانوں کو نقصان
اسی طرح منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 73 ہزار 900 کیوسک، پانی کا اخراج 10 ہزار کیوسک رہا،چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 6 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 97 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ترجمان واپڈا کا مزید بتانا تھا کہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 2 لاکھ 2 ہزار 700 کیوسک،دریائے کابل میں پانی کی آمد 61 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 61 ہزار 900 کیوسک رہی۔
