وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کیلیے فیلڈ مارشل سمیت پوری قوم سعودیہ کیساتھ کھڑی ہے۔
Islamabad : 23 July, 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a telephone conversation with His Royal Highness Prince Mohammed bin Salman bin Abdulaziz Al Saud, Crown Prince and Prime Minister of the Kingdom of Saudi Arabia, this morning.
During their most cordial… pic.twitter.com/XlzeKKj4rg
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) July 23, 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ، وزیراعظم نے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بحیرۂ احمر میں حملے جہاز رانی اور عالمی تجارتی نقل و حمل کے لیے خطرہ ہیں،پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری قوم سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے،پاکستان اس نازک وقت میں سعودی قیادت کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
پاکستان بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھے گا،محفوظ اور بلا تعطل قانونی سمندری تجارت کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا ایران، حوثیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سخت مؤقف
اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کی مستقل حمایت اور برادرانہ تعلقات کو سراہا،وزیراعظم نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ دونوں جہاز ان کی جانب سے حال ہی میں نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کی فورسز نے دو سعودی آئل ٹینکروں کے خلاف فوجی کارروائی کی۔ یہ کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ دونوں جہازوں نے سعودی بندرگاہوں سے متعلق حوثیوں کی جانب سے عائد بحری پابندی کو نظر انداز کیا۔
