پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط گزشتہ سال 17 ستمبر میں کیے گئے تھے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور و وزیر اعظم شہباز شریف نے “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ جو دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں کہا گیا کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی 8 دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے، دونوں ممالک میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں معاہدہ ہوا۔
معاہدے سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی جس میں دوطرفہ تعلقات اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خارجہ اسحق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی شریک تھے۔
سعودی شاہی محل آمد پر وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا تھا جہاں انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
اس سے قبل شہبازشریف کے طیارے کو سعودی فضائیہ کے ایف 15 لڑاکا طیاروں نے اپنی حفاظت میں لے کر ایئر بیس تک پروٹوکول دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کی جانب سے دہشتگردوں کی پشت پناہی نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کیلیے بھی خطرہ ہے،دفترخارجہ
بعد ازاں وزیراعظم شہبازشریف کا رائل ٹرمینل پر ڈپٹی گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے استقبال کیا ، وزیراعظم اور ڈپٹی گورنر ریاض کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس دوران پاک سعودی تعلقات اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
