امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل 87 ڈالر سے اوپر چلا گیا جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا، برینٹ خام تیل کی قیمت 3.10 ڈالر یا 3.68 فیصد اضافے کے ساتھ 87.33 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جو گزشتہ ایک ماہ میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 3.14 ڈالر یا 3.98 فیصد کے اضافے کیساتھ 82.09 ڈالر ، مربان خام تیل 3.91 فیصد اضافے کے ساتھ 80.77 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 3.10 فیصد اضافے کے ساتھ 81.81 ڈالر پر پہنچ گیا۔
تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی بڑھنے کا امکان
قیمتوں میں تیزی کا یہ رجحان پورے انرجی کمپلیکس (توانائی کی مارکیٹ) میں پھیل گیا، جس کے نتیجے میں امریکی گیسولین فیوچرز میں 3.86 فیصد اور ڈچ ٹی ٹی ایف نیچرل گیس میں 3.41 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح امریکی نیچرل گیس کی قیمتوں میں 1.01 فیصد اور جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک میں 0.92 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں میں اس وقت تک اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے جب تک اس بات پر مزید واضح صورتحال سامنے نہیں آ جاتی کہ آیا یہ تنازعہ محدود رہتا ہے یا ایک وسیع تر علاقائی تصادم میں بدل جاتا ہے۔
امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل ، تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
خلیج سے تیل کی برآمدات یا آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی منتقلی میں کوئی بھی رکاوٹ خام تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ بڑھے گا اور مالیاتی منڈیوں پر مزید منفی اثر پڑے گا۔
90 ڈالر فی بیرل کے قریب خام تیل کی برقرار رہنے والی قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھا سکتی ہیں، مہنگائی کو تیز کر سکتی ہیں اور روپے سمیت عوامی مالیات (پبلک فائنانسز) پر دباؤ کو مزید شدید کر سکتی ہیں۔
