معروف بالی ووڈ ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی اجرک کے ڈیزائن سے مزین ٹائی توجہ کا مرکز بن گئی۔
کرسٹوفر نولان نے اپنی نئی فلم “دی اوڈیسی” کے نیویارک میں 14 جولائی کو ہونے والے پریمیئر کے موقع پر اجرک کے ڈیزائن سے مزین خصوصی ٹائی پہن کر توجہ حاصل کر لی۔
رپورٹس کے مطابق یہ کسٹم سلک ٹائی نیویارک میں مقیم بھارتی مینز ویئر ڈیزائنر آہان ٹنڈن نے تیار کی، جنہوں نے اس کی تفصیلات اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیں۔
ٹائی پر ہلکے نیلے اور سرخ رنگ میں اجرک کے روایتی جیومیٹرک ڈیزائن نمایاں تھے، اجرک بلاک پرنٹنگ کا ایک قدیم فن ہے، جس کی اصل شناخت سندھ سے جڑی ہوئی ہے تاہم بھارت کے ریاست گجرات کے کچھ علاقوں، خصوصاً کچھ (Kutch) کی کھتری برادری میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
Christopher Nolan brought a touch of South Asian heritage to the premiere of The Odyssey in New York, wearing a custom silk tie featuring the iconic ajrak print. The accessory has drawn admiration for showcasing the region's rich textile tradition on a global stage.… pic.twitter.com/OPaCEHXiDE
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) July 18, 2026
کرسٹو فر نولان کی جانب سے اجرک سے متاثرہ ٹائی کے انتخاب کو سوشل میڈیا پر ثقافتی ورثے کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں صارفین اس منفرد انداز پر تبصرے کر رہے ہیں۔
معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی فلم “دی اوڈیسی” کے پریمیئر میں پہنی گئی اجرک سے متاثرہ ٹائی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
اگرچہ کئی صارفین نے اس ٹائی کو سندھ کی روایتی اجرک سے منسوب کرتے ہوئے سراہا تاہم متعدد افراد نے اس دعوے سے اختلاف بھی کیا۔
کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ٹائی کا ڈیزائن دراصل فارسی، وسطی ایشیائی اور مغربی خطوں میں پائے جانے والے موزیک طرزِ تعمیر سے متاثر معلوم ہوتا ہے اور اسے صرف اجرک قرار دینا درست نہیں۔
امریکا میں آئی میکس فارمیٹ پر بنی فلم “دی اوڈیسی” دیکھنے کیلئے اتنا ہنگامہ کیوں؟
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ یہ ڈیزائن اجرک نہیں ہے اور اس معاملے کو غیر ضروری طور پر خبر بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بعض تبصروں میں ہدایت کار کی ذاتی یا فلمی موضوعات سے متعلق تنقیدی اور طنزیہ آراء بھی سامنے آئیں، جن پر مختلف صارفین نے متضاد ردِعمل کا اظہار کیا۔
