بہاولنگر: امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے سے کم کی جائے ورنہ ملک گیر احتجاج ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی اور پٹرول پر عائد لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
بہاولنگر میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر سے کم کی جائے اور اس پر عائد لیوی ختم کی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو آئندہ دنوں میں بڑے احتجاج کی کال دی جائے گی۔
انہوں نے نوجوانوں سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور احتجاج کے طور پر موٹرسائیکلیں بند کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی آنے تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور ملک بھر میں ہڑتال کے ذریعے حکمرانوں کو عوامی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز (آزاد بجلی گھروں) کے مافیا کو مسلسل نوازا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی مہنگی اور عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر حکومتوں نے بھی آئی پی پیز کو فروغ دیا، جس کے باعث آج بجلی کا نظام بحران کا شکار ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 49 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ طلب 24 ہزار میگاواٹ کے قریب ہے، اس کے باوجود مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ ان کے مطابق مہنگے معاہدوں کے تحت آئی پی پیز سے بجلی خریدی جا رہی ہے اور چند کمپنیوں کو ہر سال تقریباً دو ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے باعث بجلی کی قیمتوں میں کچھ کمی ممکن ہوئی اور حکومت پر عوامی دباؤ بڑھا۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے، لیوی ختم کی جائے اور آئی پی پیز کے مبینہ مافیا کو لگام ڈال کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔
