صوبائی دارالحکومت لاہور میں غیر رجسٹرڈ اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 760 غیرقانونی اداروں کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے شہر بھر میں قائم اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کا جامع سروے شروع کر دیا ہے، جس کے دوران اب تک 760 غیرقانونی اور غیر رجسٹرڈ اکیڈمیز کا انکشاف ہوا ہے۔
کاہنہ سانحہ، وزیراعلیٰ پنجاب کو ابتدائی رپورٹ پیش، تحقیقاتی کمیٹی قائم
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق لاہور میں اس وقت 14 ہزار کے قریب اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن کی رجسٹریشن، عمارتوں کی حالت اور حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور قانونی تقاضے پورے کریں، بصورت دیگر غیر رجسٹرڈ اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کر دیا جائے گا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے واضح کیا ہے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی عمارت میں اکیڈمی یا ٹیوشن سینٹر چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عمارت کی ساخت، حفاظتی معیار، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور دیگر ضروری سہولیات کی جانچ کے بعد ہی ادارے کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
لاہور، کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گر گئی، 14 بچے جاں بحق، متعدد زخمی
حکام کے مطابق اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے نیا میکانزم بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت تمام نجی ٹیوشن مراکز کو قانونی دائرہ کار میں لایا جائے گا تاکہ طلبہ کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے جب کہ گذشتہ روز لاہورہی میں دوران تعمیر ایک نجی اسکول کی عمارت کی چھت گرنے کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ان پے درپے حادثات کے بعد غیر رجسٹرڈ تعلیمی مراکز کی نگرانی پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے تھے اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی فٹنس، حفاظتی معیارات اور سرکاری نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
باغبان پورہ اسکول حادثہ، وزیر تعلیم پنجاب کا بڑا ایکشن، رپورٹ طلب، تحقیقات کا حکم
محکمہ اسکول ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ انہی واقعات کے پیش نظر شہر بھر میں حفاظتی معائنوں کا عمل مزید تیز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
