لاہور، کاہنہ کے علاقے بستی عیدگاہ میں واقع ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہو گئے، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انہیں ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔
ریسکیو ٹیمیں اور علاقہ مکین ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں، جبکہ مزید بچوں کے دبے ہونے کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔
ایدھی حکام کے مطابق جاں بحق بچوں کی لاشیں جنرل اسپتال کے مردہ خانے منتقل کی جا رہی ہیں جبکہ زخمی بچوں کو فوری طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران 3 سے 4 بچوں کو بے ہوشی کی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا تاہم ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کے باعث امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
ڈی جی ریسکیو کے مطابق جائے وقوعہ پر ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو جلد ازجلد نکالا جا سکے۔
شمالی جرمنی میں فلاحی مرکز پر اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد ہلاک، 2 گرفتار
ٹی ایچ کیو کاہنہ نے جاں بحق اور زخمی بچوں کی تفصیلات کردیں ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 7 سالہ ماہ نور فاروق، 5 سالہ مرتضیٰ عاطف، 9 سالہ غلام نبی، 6 سالہ تابشہ شہزاد، 16 سالہ خدیجہ دختر وسیم، 6 سالہ سلمان ولد وسیم اور 8 سالہ فواد ولد عابد ہو گئے ہیں۔
ٹی ایچ کیو کاہنہ کے مطابق حادثے میں زخمی 6 افراد کی حالت مستحکم ہے، 8 سالہ ابیہا، 10 سالہ فاریہ، 11 سالہ مرتضٰی اسپتال میں زیرعلاج ہیں جبکہ زخمی ہونے والے 8 سالہ ایان، 7 سالہ رابعہ کی حالت بھی مستحکم ہے اور 30 سالہ حمیدہ ریحان کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری طور پر ابتدائی رپورٹ طلب کرلی ہے، انہوں نے صوبائی وزرا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے واقعے میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 8 زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیوشن سینٹر ایک سنگل اسٹوری عمارت میں قائم تھا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کی چھت پر جاری تعمیراتی کام کے باعث وزن بڑھ گیا، جس سے گارڈر ٹوٹ کر گر گیا اور یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس نے 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ٹیم کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ تکنیکی بنیادوں پر واقعے کا جائزہ لیا جا سکے۔
فیصل کامران نے کہا کہ پولیس اور ریسکیو ٹیموں کی اولین ترجیح زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنانا ہے جبکہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔
