واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا قانونی جھٹکا دیتے ہوئے پیدائشی شہریت (برتھ رائٹ سٹیزن شپ) محدود کرنے سے متعلق ان کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکا میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی تھی، جن کے والدین دوسرے ممالک سے آئے ہوں اور مستقل قانونی حیثیت نہ رکھتے ہوں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا یہ حکم مؤثر نہ رہ سکا، جس سے امریکا میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کی پیدائشی شہریت برقرار رہے گی۔
برطانوی وزیراعظم کا بڑا دفاعی اعلان، افواج کیلئے 15 ارب پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ
عدالت کے فیصلے کو امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنی امیگریشن پالیسی کے تحت برتھ رائٹ سٹیزن شپ کو محدود کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ان کے حکم نامے کے مطابق غیر ملکی والدین کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت کا حق حاصل نہ ہوتا، تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس اقدام کی راہ روک دی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکا میں پیدائشی شہریت سے متعلق آئینی تشریح کے تناظر میں ایک اہم عدالتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
