اسلام آباد: پاکستان میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومت نے آئندہ 60 دن کے اندر ملک بھر میں بارکوڈ سسٹم نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ہیڈکوارٹر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت صحت اور متعلقہ اداروں نے اس نظام کے نفاذ کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارکوڈ سسٹم کے نفاذ کے بعد ہر دوا کی مکمل ٹریکنگ اور نگرانی ممکن ہو جائے گی۔ جس سے مارکیٹ میں دستیاب ادویات کی اصلیت کی تصدیق کی جا سکے گی اور جعلی ادویات کے کاروبار کی مؤثر روک تھام ممکن ہو گی۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 85 فیصد ادویات مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہیں۔ تاہم فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے درکار تقریباً 99 فیصد خام مال بیرون ملک، خصوصاً چین سے درآمد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سگریٹ چھوڑ کر ویپنگ کرنے والوں میں آنکھوں کی بیماریوں کا خطرہ برقرار، تحقیق
سید مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کے خام مال کی مقامی پیداوار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور ملک کا فارماسیوٹیکل شعبہ خود کفالت کی جانب گامزن ہو سکے۔
