ایک نئی طبی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد ویپنگ یا دیگر نان کمبسٹ ایبل نکوٹین مصنوعات استعمال کرنے والے افراد میں آنکھوں کی سنگین بیماریوں کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ ایسے افراد کو ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے جو نکوٹین کا استعمال مکمل طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ تحقیق جنوبی کوریا کی کوریا یونیورسٹی کالج آف میڈیسن نے کی، جس میں 32 ہزار 316 سابق تمباکو نوش افراد کے قومی ہیلتھ انشورنس ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا کو اوسطاً 4.6 سال تک فالو کیا گیا۔ نتائج امریکی جرنل آف اوفتھلمولوجی میں شائع ہوئے۔
تحقیق میں شرکا کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا: ایک وہ جنہوں نے نکوٹین مکمل طور پر چھوڑ دی، جبکہ دوسرے وہ جنہوں نے ویپنگ یا ای سگریٹ سمیت متبادل نکوٹین مصنوعات کا استعمال جاری رکھا۔
مطالعے کے دوران آنکھوں کی بیماریوں کے 6 ہزار 328 نئے کیسز سامنے آئے۔ مکمل طور پر نکوٹین چھوڑنے والوں میں یہ شرح 41.1 کیسز فی ایک ہزار افراد سال رہی، جبکہ متبادل نکوٹین استعمال کرنے والوں میں یہ شرح بڑھ کر 44 کیسز فی ایک ہزار افراد سال ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ نکوٹین کے متبادل استعمال کرنے والوں میں آنکھوں کی بیماریوں کا مجموعی خطرہ 7 فیصد زیادہ تھا۔ خاص طور پر ذیابیطس سے جڑی آنکھوں کی بیماری، ڈائیبیٹک ریٹینوپیتھی، کا خطرہ 24 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ آنکھ کی فوکس کرنے کی صلاحیت سے متعلق مسائل میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیند کی کمی اور کینسر کے درمیان تعلق ، نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف
تحقیق میں مکمل اندھے پن کے امکانات کا واضح ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ شاذ و نادر صورتوں میں یہ خطرہ موجود ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق سگریٹ سے ویپنگ یا دیگر متبادل نکوٹین مصنوعات کی طرف منتقلی آنکھوں کی بیماریوں کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی، جبکہ نکوٹین کا مکمل خاتمہ طویل مدتی آنکھوں کی صحت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
